”ٹریجڈی ان کشمیر“ کے اردو ترجمے کی تقریب رونمائی

اسلام آباد: عبدالحق سہروردی کی تصنیف”ٹریجڈی ان کشمیر©© “کے اردو ترجمے کی تقریب رونمائی انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹیڈیز اسلام میں منعقد ہوئی۔کتاب میں تنازعہ کشمیر کے تاریخی پہلوﺅں اور نہتے کشمیریوں پر جاری بھارتی جبر پر روشی ڈالی گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹیڈیز کے صدر جوہر سلیم نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ کتاب میں 1947کی تقسیم اور مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی یلغار کے بارے میںایک مستند شدہ تحقیقی مواد مو جو د ہے اور یہ محققین ، سکالروں اور سفارتکاروں کیلئے ایک قابل اعتماد تصنیف ہے۔پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین رانا قاسم نون نے کہا کہ کتاب میںکشمیریوں کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافیوں کا ایک مفصل جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اسکا اردو ترجمہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی پہلوﺅں کو سمجھنے اور کشمیریوں کو درپیش بھارتی جبر کا پردہ چاک کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گا۔
اس موقع پر پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طور پر نظر بندرہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا کہ تنازعہ کشمیر نے ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دیا ہے ، خونی رشتے ایک دوسرے سے جدا ہو کر رہ گئے ہیں اور کشمیری انتہائی دکھ و کرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کتاب ”ٹریجڈی ان کشمیر“ میں کشمیریوں کے ان دکھوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور اسکا اردو ترجمہ اس انسانی المیے کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔KMS-04/M




