انسانی حقوق

دلی میں کشمیری تاجر کی حراستی موت پر مقبوضہ کشمیر میںغم وغصے کی لہر، غمزدہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ

سری نگر: بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں 30 سالہ کشمیری تاجر زبیر احمد بٹ کی حراستی موت نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا ہے اور بھارت میں مقیم کشمیری طلباءاور تاجروں کی سلامتی کے حوالے سے تحفظات میں اضافہ ہوگیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر کے علاقے علی کدل کا رہائشی زبیر احمدمئی کے آخر میں کاروباری مقاصد کے لیے دہلی گیا تھا۔ 3 جون کو وہ وہاں کے ایک پارک میںپراسرارحالت میںمردہ پایا گیا۔نوجوان کے اہلخانہ نے کہاکہ زبیر کو دلی پولیس نے تشدد کانشانہ بناتے ہوئے مار ڈالا ہے۔
زبیر کا جسد خاکی 4 جون کو سری نگر پہنچایا گیا۔نوجوان کے جنازے میں بری تعداد میں کشمیری شریک تھے۔ انہوںنے اس موقع پر زبیر کے بہیمانہ قتل کے خلاف نعرے لگائے اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ نے کہا کہ زبیر کا قتل انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس دلدوز واقعے نے بھارت میں مقیم کشمیریوںکی سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور ہزاروں کشمیری طلبہ، تاجروں اور مزدوروں کے دلوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا کر دیا ہے۔میرواعظ نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد کشمیریوں کو بھارت میں سخت ہراساں کیا گیا ،تشددکانشانہ بنایا گیا اور واپس کشمیر لوٹنے پرمجبور کیا گیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔میر واعظ نے بھارتی حکومت زور دیا کہ وہ اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داری پورا کرے اور کشمیریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے جنہوں نے غمزدہ خاندان کے گھرجاکر اظہار تعزیت کیا ، ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ” اہلخانہ نے جو اسکرین شاٹس اور زبیر کے پیغامات فراہم کیے ہیں وہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہ کرتے ہیں کہ زبیر کو قتل کیاگیا ہے۔ انہوں نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پی ڈی پی کے ایک اور رہنما ر ذہیب یوسف بھٹ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔سری نگر کے سابق میئر جنید عظیم نے بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button