مقبوضہ جموں وکشمیر : بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا”راجیہ سبھا“ کی نشستوں کیلئے انتخابات
سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں آج بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کی نشستوں کیلئے انتخابات ہو رہے ہیں۔ مقبوضہ علاقے کی قانون ساز اسمبلی کے ارکان راجہ سبھا کے چار اراکین کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پولنگ سری نگر میں اسمبلی کمپلیکس کے اندر تین بوتھوں پر آج صبح 9 بجے شروع ہوئی جو شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔ گنتی شام 5 بجے شروع ہوگی۔ حکام نے کہا ہے کہ گنتی ختم ہونے کے چند منٹوں میں نتائج کا اعلان متوقع ہے۔
مقبوضہ جموں کشمیر میں راجیہ سبھا کے آخری انتخابات فروری 2015 میں ہوئے تھے، جب پی ڈی پی-بی جے پی مخلوط حکومت کے دوران چار ممبران، غلام نبی آزاد، نذیر احمد لاوے، شمشیر سنگھ منہاس اور فیاض احمد میر منتخب ہوئے تھے۔ اگست 2019 میں مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد راجیہ سبھا کے چار اراکین نے فروری 2021 تک اپنی مدت پوری کی۔
مقبوضہ علاقے کی حکمران جمات نیشنل کانفرنس چار میں سے تین سیٹوں پر آسانی سے کامیابی حاصل کرسکتی ہے،کیونکہ اسے کانگریس، پی ڈی پی اور آزاد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
این سی کی زیرقیادت انڈیا بلاک 90 رکنی ایوان میں 57 ایم ایل ایز کی سربراہی کرتی ہے، جس میں 41 نیشنل کانفرنس، چھ کانگریس، چھ آزاد، تین پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی جبکہ ایک کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ رکن اسمبلی شامل ہیں، جس سے اسے بی جے پی کے 28 ایم ایل ایز پر واضح برتری حاصل ہے۔
چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کی طرف سے نیشنل کانفرنس کو ملنے والی حمایت سے بی جے پی کیلئے سخت مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی معراج ملک نے پیر کو کٹھوعہ ڈسٹرکٹ جیل سے الیکشن کمیشن کے خصوصی انتظامات کے بعد اپنا ووٹ ڈالا۔





