مقبوضہ جموں و کشمیر

پونچھ اور بارہمولہ میں بھارتی فوجیوں کی بڑے پیمانے پر محاصرے اورتلاشی کی کارروائی

سرینگر،نئی دلی میں مظاہرین کا کشمیری نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے پونچھ اوربارہمولہ اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے یہ کارروائی کنٹرول لائن کے قریب واقع مینڈھر اوراوڑی کے علاقوں بالاکوٹ، لنگوٹ اور گرسائی نالہ کے میں کی۔ فوجیوں نے گھر گھر تلاشی لی، شہریوں کو ہراساں کیا اور مکینوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔قابض حکام نے فوجی آپریشن کا جواز پیش کرنے کیلئے دعویٰ کیا ہے کہ ان علاقوں میں نصف درجن ڈرونزکو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیاہے۔
ادھر سرینگر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔مظاہرین نے بھارت کی جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ۔مظاہرین نے”جیل نہیں، ضمانت”کے نعرے لگائے اور کشمیری نظربندوں کو بھارت کی دور درازجیلوں میں منتقل کرنے کی مذمت کی۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف قیدی منصفانہ ٹرائل سے محروم ہوتے ہیں بلکہ یہ انکے اہل خانہ کیلئے بھی اجتماعی سزا ہے ۔ پولیس نے مارچ کے دوران محبوبہ مفتی کو گرفتارکرنے کی کوشش کی ،تاہم وہ مظاہرین کی قیادت کرتی رہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے جبر سے لوگوں کے انصاف کے مطالبے کودبایا نہیں جا سکتا۔
نئی دلی کے علاقے جنتر منتر پر عوامی اتحاد پارٹی کے صدر انجینئر عبدالرشید اور دیگر کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ دھرنے میں سول سوسائٹی کے ارکان سمیت سینکڑوں کارکنوںنے شرکت کی جنہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”جیل کی دیواروں سے لوگوں کے مطالبات کو دبایا نہیں جاسکتا”اور ”جب لیڈروں کو جیل میں ڈالا جاتا ہے تو جمہوریت ناکام ہو جاتی ہے”جیسی تحریریں درج تھیں۔ دہلی میں مقیم امن پسند کارکن او پی شاہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید کی طویل نظربندی کو انصاف کی پامالی قرار دیا اور انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
نئی دلی میں قائم” پیریاڈک لیبر فورس سروے ”کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بھارت کے مقابلے میں سب سے زیادہ بے روزگاری پائی جاتی ہے جہاں نوجوانوں کی اکثریت غیر محفوظ اور کم اجرت والی عارضی نوکریاں کرنے پر مجبورہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح32فیصد تک بڑھ گئی ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح 53.6فیصد ہے جو پورے خطے میں سب سے زیادہ ہے۔قابض حکام کے پاس 3لاکھ 70ہزارسے زائد بے روزگار نوجوان رجسٹرڈ ہیں، اسکے باوجود بھرتی کا عمل تعطل کا شکار ہے۔
واشنگٹن میں ہزاروں افراد نے بھارتی سفارت خانے کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور غیر قانونی طور پر نظربند کشمیری رہنما محمد یاسین ملک اور دیگر سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کہاکہ بھارت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے جائز مطالبے پریاسین ملک کو پھانسی دینے کی سازش کر رہا ہے۔ریلی میں امریکہ اور کینیڈا سے کشمیری رہنمائوں اورانسانی حقوق کے کارکنوںنے شرکت کی ۔ انہوں نے پلے کارڈ زاٹھا رکھے تھے جن پر”کشمیر میں بھارتی جمہوریت مرچکی ہے ” جیسی تحریریں اور اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کے مطالبا درج تھے۔ ریلی کا اختتام کشمیری قیدیوں کی رہائی کیلئے عالمی کوششوں کو تیز کرنے کے عزم اور کشمیر ی شہدا ء کیلئے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button