بھارتی فوج میں بدعنوانی عروج پر، لیفٹیننٹ کرنل گرفتار

نئی دہلی: بھارتی فوج اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے اندر پھیلی ہوئی بدعنوانی کی گہری جڑیں ایک بار پھر اس وقت بے نقاب ہو گئیں جب تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے محکمہ دفاعی پیداوار میں تعینات ایک سینئر فوجی افسر کو رشوت ستانی اور نجی کمپنیوں کے ساتھ غیر قانونی لین دین کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)نے بھارتی وزارت دفاع کے تحت محکمہ دفاعی پیداوار میں ڈپٹی پلاننگ آفیسر(بین الاقوامی تعاون اور برآمدات)کے طور پر تعینات لیفٹیننٹ کرنل دیپک کمار شرما کو بنگلورو کی ایک دفاعی کمپنی سے3لاکھ روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا۔سی بی آئی نے اس کے احاطے پر چھاپوں کے دوران2.23کروڑ روپے کی نقد رقم ضبط کی۔سی بی آئی نے دیپک کمار شرما کی اہلیہ کرنل کاجل بالی کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے جو راجستھان کے علاقے سری گنگا نگر میں 16انفنٹری ڈویژن آرڈیننس یونٹ کی کمانڈنگ آفیسر ہیں جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بدعنوانی بھارت کی مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں تک کس حد تک پہنچ چکی ہے۔تفتیش کاروں کاکہنا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل شرما پرائیویٹ ڈیفنس مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ مجرمانہ سازش کے تحت بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ اس نے اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایسی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے عوض رشوت وصول کی۔ایجنسی نے کہا کہ اسے رشوت کے لین دین سے متعلق مخصوص معلومات ملی ہیں جس میں بنگلورو کی ایک کمپنی شامل ہے جس کے معاملات راجیو یادو اور روجیت سنگھ سنبھال رہے تھے۔ سی بی آئی نے کہا کہ دونوں شرما کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں تھے اور اس کے ساتھ مل کر مختلف سرکاری محکموں اور وزارتوں سے غیر قانونی طور پر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ کمپنی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ونود کمارنامی شخص نے 18دسمبر 2025کو لیفٹیننٹ کرنل شرما کو رشوت کے طور پر 3 لاکھ روپے دیے تھے۔ اس معاملے میں ونود کمار کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔سی بی آئی نے تلاشی کے دوران دیپک کمار شرما کی دہلی رہائش گاہ سے رشوت کی رقم کے ساتھ 2.23 کروڑ روپے نقد برآمد کیے جبکہ سری گنگا نگر میں ان کی بیوی کی رہائش گاہ سے بھی 10لاکھ روپے ضبط کیے گئے۔






