بھارت کشمیری نوجوانوں کو سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنا رہا ہے:کل جماعتی حریت کانفرنس

downloadبھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں محاصرے اورتلاشی کی پرتشدد کارروائیاں جاری

سرینگر25جون (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کشمیریوں کو جدوجہد آزادی سے دستبردارکرانے کے لئے جان بوجھ کر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہاہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل ہیں اور وہ کسی سزا کے خوف کے بغیر کشمیری نوجوانوں کو بلا روک ٹوک قتل اور گرفتار کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران فوجیوں نے متعدد نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا اور کئی دیگر کو گھروں پر چھاپوں اور نام نہاد تلاشی کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پربھارت کا محاسبہ کرے ۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ضلع بڈگام کے علاقے ماگام میں پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ ہٹ دھرمی پر مبنی اپنا رویہ ترک اور اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرے کیونکہ طاقت کے ذریعے امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرخاص طور پر وادی کشمیر کے لوگ بھارت کی ظالمانہ کشمیر پالیسی کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔
سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سرینگر میں اپنے بیانات اور انٹرویوز میں کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں G20سربراہ اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کر کے زمینی صورتحال کے برعکس ایک غلط اور گمراہ کن بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کو اپنے مذموم اقدامات کے بجائے حقائق معلوم کرنے والی غیر ملکی ٹیموںکو مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے اور وہاں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دینی چاہیے۔
دریں اثناء بھارتی فوجیوں نے ہندو ئوں کی امرناتھ یاتر اشروع ہونے سے پہلے سرینگر ، بڈگام ، گاندربل ، پلوامہ ، شوپیاں ، اسلام آباد ، کولگام ، بارہمولہ ، کپواڑہ ، جموں ، سانبہ ، کٹھوعہ اور جموں خطے کے دیگرعلاقوں میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں۔ قابض حکام نے سیکورٹی اقدامات کے نام پر مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کررکھی ہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامناہے۔بھارتی پولیس نے ضلع بڈگام میں تلاشی کے دوران تین نوجوانوں کو گرفتار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: