بھارت : ہندو انتہاپسندوں نے گائے کا گوشت کھانے کے الزام پر عمررسیدہ شخص کووحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا
جے پور:بھارتی ریاست راجستھان میں ہندوانتہاپسندوں کے ایک گروپ نے ایک عمررسیدہ شخص پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگاکر اور اسے روہنگیا اور بنگلہ دیشی دراندازقرار دے کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ دل دہلا دینے والا واقعہ راجستھان کے ضلع جھالاواڑ کے قصبے اکلیرا میں پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ویڈیو میں عمررسیدہ شخص کو زمین پر بے بسی سے لیٹا ہوا دیکھا جاسکتا ہے اور اسے 8سے10نوجوانوں نے گھیر رکھاہے جو اس کے سر اور جسم پر بار بار لاتیں مار رہے ہیں، اسے لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں اور تھپڑ مار رہے ہیں۔ حملہ آوروں کو گالی گلوچ کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے جومتاثرہ شخص پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگارہے ہیں اور اس کی قومیت پر سوال اٹھارہے ہیں۔ حملے کے دوران مذکورہ شخص کو التجا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو اپنا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔اس واقعے نے شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، بہت سے لوگوں نے مودی کے بھارت میں ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مذمت کی۔ راشٹریہ جنتا دل کی نائب صدر انیتا یادو نے کہا کہ ہجومی تشدد کے واقعات خاص طور پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہجومی تشدد کی بنیادی وجوہات جاننے کے باوجود نہ تو مودی حکومت اور نہ ہی ریاستی حکومتیں سخت کارروائی کر رہی ہیں۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں اس طرح کے واقعات ایک معمول بن چکے ہیں ۔ انہوںنے اینجل چکما اورایک گلوکارکی موت سمیت( جو اسی طرح کے تشدد میں مارے گئے تھے)، ہجومی تشدد کے سابقہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ ریاستی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درندے ایک انسان کو جانور کی طرح مار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکلیرا کا واقعہ گورننس اور احتساب کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔







