مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر جموں ہائی وے کی بندش کی وجہ سے پھلوں کے کشمیری کاشتکاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سرینگر جموں ہائی وے گزشتہ ایک ہفتہ سے بندہونے کی وجہ سے پھلوں سے لدے ایک ہزار سے زائد ٹرک ہائی وے پر پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے پھلوں کے کشمیری کاشتکاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث سرینگر جموں ہائی وے ضلع اودھمپور میں جکھینی اور چنانی کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے گزشتہ ایک ہفتے سے بند ہے ۔ ہائی وے وادی کشمیر کو بیرونی دنیا سے ملانے والا واحد زمینی راستہ ہے ۔شاہراہ کی بندش کی وجہ سے سیب اور ناشپاتی کے کروڑوں روپے مالیت کے ہزاروں ٹرک ہائی وے پر پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں لدا پھل خراب ہونے سے کشمیری کاشتکاروں اور تاجروں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سامنا ہے ۔پھلوں کی فصل کو کشمیر ک معیشت میں اہم مقام حاصل ہے اور لینڈ سلائیڈنگ، ناقص دیکھ بھال اوربارش کے باعث اکثر شاہراہ کی بندش کی وجہ سے پھلوں کے کشمیری تاجروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ پھلوں کی صنعت سے وابستہ ہزاروں کشمیری خاندانوں کاکوئی پرسان حال نہیں اور قابض انتظامیہ نے انہیںحالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button