ہزاروں کشمیری بغیر کسی سزا کے سالہاسال سے جیلوں میں نظربند ہیں :بھارتی حکومت کا اعتراف

سرینگر: بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں پیش کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2,400 سے زائدزیر سماعت قیدی دو سالوں سے زائد عرصے سے جیلوں میں نظر بند ہیں جن میں 275 ایسے قیدی بھی شامل ہیں جنہوں نے مقدمے کی سماعت یا ضمانت کے انتظار میں پانچ سال سے زیادہ وقت جیلوں میں گزارا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی طرف سے 2023 کے لیے مرتب کیے گئے اعداد و شمار میں بتایاگیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں 827 زیر سماعت قیدی ایسے ہیں جنہوں نے ایک سے دو سال تک جیلوں میں گزارے ہیں جبکہ 1,388 نے دو سے پانچ سال کے درمیان جیلوں میں گزارے ہیں۔ اس کے علاوہ 275 قیدی پانچ سال سے زائد عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔یہ اعداد و شمار راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کے ایک سوال کے جواب میں پیش کیے گئے ۔ اگرچہ اصل میں نظربند کشمیریوں کی تعداد بھارتی حکومت کی طرف سے پیش کی گئی تعدادسے کہیں زیادہ ہے ، تاہم ا تنے بڑے پیمانے پربغیر کسی سزا کے سالہا سال تک کشمیریوں کی نظربندی سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں امن واستحکام اورحالات معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی حکومت کے دعوﺅں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ بھارت دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کے بارے میں باربار جھوٹ بول رہا ہے اورعلاقے میں حالات معمول کے مطابق ہونے کے بلندو بانگ دعوے کرتا رہتا ہے جس کی حقیقت اس اعدادوشمارسے واضح ہوجاتی ہے۔






