بھارت

بہار انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی، وزیراعظم مودی پر ووٹ خریدنے کے سنگین الزامات

نئی دلی:
بھارتی ریاست بہار میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران بڑے پیمانے پردھاندلی، بے ضابطگیوں اور تشدد کے واقعات نے شفافیت پر سنگین سوالات اٹھادئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقامی ووٹرز اور سیاسی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی نے اقتدار پر قابض رہنے کے لیے انتخابی عمل کو متاثر کیاہے۔مقامی ووٹرز کے مطابق، پولنگ اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ہی ان کے نام پر ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔ حزب اختلاف کی مرکزی جماعتی کانگریس نے کہاہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار میں ووٹرز کوپیسوں کی لالچ دے کر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی دھجیاں اڑا دیں۔بھارتی جریدے نیشنل ہیرلڈ کے مطابق، انتخابی عمل کے دوران متعدد مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے جبکہ عوامی غصے کے دوران نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے نائب وزیراعلی پر بھی حملہ کیا گیاہے۔رپورٹس کے مطابق ایگزٹ پولز اور زمینی حقائق میں واضح فرق نے نتائج پر عوامی شکوک وشبہات کومزید بڑھا دیاہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق ٹیکاری میں امیدوار انیل کمار کو انتخابی مہم کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ سیوان میں عوام نے بی جے پی امیدوار دیویش کانت سنگھ کے خلاف ووٹ چور کے نعرے لگائے۔ بی جے پی کے کارکنوں نے ووٹرز اور پولنگ ایجنٹوں کو دھمکیوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں ۔ رپورٹس کے مطابق بہار کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر جعل سازی سامنے آئی ہے جس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button