بھارتی سپریم کورٹ کامقبوضہ کشمیرمیں سینکڑوں مقدمات کی سماعت میں تاخیر کا اعتراف

نئی دلی: بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقدمات کی سماعت میں طویل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ 350 سے زائد مقدمات پانچ سال سے زیر التوا ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ مقبوضہ علاقے میں تقریبا 585ملزمان پر مشتمل 351سیشن ٹرائلز طویل عرصے سے زیر التوا ہیں، تقریبا 250 مقدمات میں ابھی تک گواہان کے بیانات قلمنبد نہیں کئے گئے ہیں۔جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے صورتحال کو "انتہائی مایوس کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا اور وہ قانون کے تحت تیز رفتار ٹرائل کے حقدار ہیں۔عدالت نے گواہوں کو وقت پر پیش کرنے میں استغاثہ کی ناکامی پر سوال اٹھایا اورقابض انتظامیہ سے کہا کہ وہ طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے ایک واضح منصوبہ پیش کرے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی اعلیٰ عدالت کے ان ریمارکس سے مقبوضہ کشمیر میں نظام انصاف کی سنگین خامیاں بے نقاب ہوتی ہیں جہاں بہت سے زیر حراست افرادٹریل مکمل نہ ہونے پر برسوں سے مسلسل جیلوں میں قید ہیں ۔






