مقبوضہ کشمیر:عدالت نے 2کشمیری نوجوانوں کو 14برس قید کی سزاسنا دی

سرینگر:
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک عدالت نے دو کشمیری نوجوانوں کو ایک جھوٹے مقدمے میں 14 برس قید کی سزا سنادی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بانڈی پورہ کے رہائشی نوجوانوں مدثر احمد خواجہ اور قیوم احمد کو بھارتی پولیس نے 2020 میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں نظر بند ہیں۔انہیں بانڈی پورہ کی عدالت نے چودہ 14سال کی سزا سنائی ہے۔
گرفتار نوجوانوں کوآزاد ی کے حق میں سرگرمیوں کی پاداش میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ بھارت نے، جو خود کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہلاتا ہے ، کشمیریوں کی آزادی فوجی طاقت کے بل پر سلب کر رکھی ہے۔ آزادی کی آواز اٹھانے پر مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر جاری قتل وغارت ، حریت رہنمائوں سمیت عام کشمیری نوجوانوںکی عمر قید کی سزائیں بھارتی جمہوریت کے ماتھے پر ایک بدنما دھبہ ہیں۔




