مقبوضہ جموں و کشمیر

محبوبہ مفتی کا مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آبادیاتی تبدیلیوں پراظہار تشویش

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اگست 2019 میں مودی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کے بعد علاقے میں بھارتی شہریوں کی بڑھتی ہوئی آمد ،زمینوں پر قبضوں اور شہری زندگی پر بڑھتے ہوئے دبائوپر شدید تشویش کا اظہار کیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے اسلام آباد قصبے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد کشمیری عوام کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے باہر کے لوگ علاقے میں آباد ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے خاص طور پر جموں خطے میں سماجی تنائو اور جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی لوگوں کے خدشات کو سمجھنے اور ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے ان سے بات چیت کر رہی ہے۔ پی ڈی پی سربراہ نے ضلع پلوامہ میں زرخیززرعی زمین پر بھارتی افواج کے لیے مجوزہ کمپلیکس کی تعمیر پر بھی اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تعمیر رہائشی علاقے میں کی جا رہی ہے جس سے مقامی لوگوں اور بھارتی فورسز کے درمیان کشیدگی اور تصادم پیداہوسکتاہے۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس اقدام پر نظر ثانی کرے اور قلیل زرعی زمین کی حفاظت کرے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کو پہلے ہی زمین کی شدید قلت کا سامنا ہے اور متنازعہ علاقے کی مقامی آبادی کے لیے زمین کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے اسمبلی میں اس مسئلے کو اٹھایا اور ایک بل پیش کیا جس کا مقصدان لوگوں کے لئے جائیداد کے حقوق کو محفوظ بنانا ہے جو دہائیوں سے سرکاری یا عام زمینوں پر رہ رہے ہیں۔انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ عوامی شکایات کا ازالہ کریں اور ایسی پالیسیوں سے گریز کریں جن سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ مزید دور جائیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button