خصوصی رپورٹ

آپریشن سندور کی عبرتناک ناکامی کے بعد نریندر مودی کا بڑھتا ہوا جنگی جنون

بھارت کی عسکری پالیسی مودی کی ذاتی انا کی بھینٹ چڑھ گئی

نئی دلی:
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد آپریشن سندور کی عبرتناک ناکامی نے نہ صرف بھارت کی عسکری صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت اور طرزِ حکمرانی کو بھی شدید تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سفارتی حلقے اور عسکری ماہرین نے کہاہے کہ آپریشن سنور کی عبرتناک ناکامی کے بعد مودی حکومت کو شدیدداخلی و خارجی دبائوکا شکار ہے، جس کاردعمل اب ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے جنگی جنون کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔آپریشن سندور کی ناکامی نے وزیراعظم مودی کو اس خوف میں مبتلا کر دیاہے کہ اگر وہ اپنی شکست تسلیم کر تے ہیں تو ان کی آہنی شخصیت کا بھرم ٹوٹ جائے گا ۔ اسی خوف نے انہیں جارحانہ اقدامات پر مجبور کر دیا ہے، جہاں حکمتِ عملی کی جگہ بلند بانگ دعوئوں اور محض طاقت کے مظاہرے نے لے لی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت داخلی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے خارجی محاذ پر بیجا اشتعال انگیزی پھیلا رہی ہے ۔آپریشن سندور کی ناکامی نریندر مودی کے لیے صرف ایک فوجی ناکامی نہیں بلکہ ان کی انا پر ایک کاری ضرب بھی تھی۔ ان کی پالیسیوں میں اب یہ رجحان نمایاں ہو چکا ہے کہ وہ سفارتی حل کو کمزوری اور پسپائی سمجھتے ہیں اور دشمنی کو ذاتی حیثیت میں لیتے ہیں۔ یہی روش بھارت کو مسلسل کشیدگی اور خطرناک عسکری محاذ آرائی کی جانب دھکیل رہی ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی آپریشن سندور کے بعد اپنی عسکری صلاحیتوں کی خامیوں کا جائزہ لینے کی بجائے، محض طاقت کے استعمال سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ اسی خود فریبی نے بھارت کو نہ صرف اندرونی طور پر غیر محفوظ کیا ہے بلکہ خطے میں بھی اس کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔مودی حکومت کے اقدامات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ قومی سلامتی اب ایک فرد کی انا اور ضد سے مشروط ہو چکی ہے۔ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے، جہاں اسے ایک غیر متوقع اور غیر ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مودی کی نظریاتی ضد نے بھارت کیلئے سفارتی دروازے بند کر دیے ہیں اور خطے کو ایک ایسے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے جس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button