سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے: چینی اخبار
بیجنگ: چین کے معروف انگریزی جریدے سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ (ایس سی ایم پی )نے سندھ طاس معاہدے پر مستقل ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو پاکستان کی ایک غیر متوقع اور عظیم سفارتی فتح قرار دے دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق چینی جریدے کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ بین الاقوامی ٹریبونل کے اس فیصلے نے دیرینہ آبی تنازعہ میں بھارت پر پاکستان کا پلڑا بھاری کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان شدید جنگوں، کشیدگی اور سیاسی چپقلش کے باوجود 1960 کا تاریخی سندھ طاس معاہدہ ہمیشہ بحال اور برقرار رہا ہے۔
سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ نے تحریر کیا کہ 31 اگست کو دی ہاگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا کہ نئی دہلی کے پاس اس دوطرفہ بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں عالمی عدالت نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںو کشمیر میں دریائے چناب پر زیرِ تعمیر متنازع رتل ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ کی ڈیزائننگ اور تعمیر کو بھی محدود کرنے کا حکم دیا ہے۔
جریدے نے مزید لکھا کہ عالمی ٹریبونل کے پانچ رکنی پینل نے معاہدے کی معطلی کے حوالے سے بھارتی موقف اور دلائل کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے بیانیے کو مزید تقویت ملی ہے۔
چینی اخبار نے لکھا کہ بھارتی یکطرفہ اور متنازع اقدامات کے خلاف انٹرنیشنل ٹربیونل کا یہ واضح اور قطعی فیصلہ پاکستان کے لیے ایک ایسی اہم سفارتی کامیابی ہے جس نے خطے میں بھارت کے توسیعی ہتھکنڈوں اور آبی جارحیت کو الٹا کر رکھ دیا ہے۔.







