مقبوضہ جموں وکشمیر:بی جے پی حکومت نے شہید کے بیٹے کو سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا

سرینگر:کشمیریوں کو ان کی ملازمتوں اور جائیدادوں سے محروم کرنے کے مودی حکومت کے ایجنڈے کے تحت قابض انتظامیہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک کشمیری ملازم کو برطرف کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق برطرف کیے گئے ملازم محمد ارشد گورو آنچار سرینگر سے تعلق رکھنے والے شہید آزادی پسند لیڈرغلام رسول گورو کے بیٹے ہیں اوروہ محکمہ سماجی بہبود میں ملازمت کرتے تھے۔ انہیں نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت بی جے پی انتظامیہ نے ایک شہید رہنما کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کر دیا۔بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو معاشی طورپر محتاج بنانے کے لئے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اگست 2019سے سینکڑوں کشمیری ملازمین کو مختلف بہانوں سے معطل اور برطرفی کردیا ہے۔ مقبوضہ علاقہ اگست2019میں خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے مسلسل سخت فوجی محاصرے کی زد میں ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میںایک بیان میں کشمیری ملازم کی برطرفی کی مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو کشمیر دشمن اور آمرانہ اقدام قرار دیا۔حریت کانفرنس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرے کیونکہ مقبوضہ علاقے میں حالات بدستور ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔






