بھارت

مسلمانوں اورشہری حقوق کے گروپوں کاہندوالیڈر سادھوی پراچی کے مسلم مخالف ،نفرت انگیز بیان پرکڑی تنقید

سہارنپور:
بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں ایک مذہبی کنونشن کے دوران ہندوتوا لیڈر سادھوی پراچی کے متنازعہ بیان پر مسلمانوں اور شہری حقوق کے کارکنو ں کی کڑی تنقید کا سلسلہ جاری ہے ،اس بیان سے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا امتیازی سلوک کی عکاسی ہوتی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مادھو نگر کے وشنو مندر میں منعقدہ ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سادھوی پراچی نے کہاتھا کہ جو بھی ہندوستان میں غیر محفوظ محسوس کرتا ہے وہ پاکستان چلا جائے۔ سادھو ی پراچی کے متنازعہ بیان پر مسلم رہنمائوں اور سماجی گروپوں کی طرف سے شدید غم وغصے کا اظہار کیاگیا ہے۔برصغیر کی تقسیم پر سادھوی پراچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کو مذہبی خطوط پر تقسیم کیا گیا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں نے ہندوئوں کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا تھا۔ "ہندوستان ایک ہندو قوم ہے اور ہندو قوم ہی یہاں رہے گی۔ جو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے وہ ہندوستان چھوڑ کر چلا جائے”۔سہارنپور کے مسلم قائدین نے سادھوی پراچی کے متناعہ بیان کو سختی سے مسترد کردیاہے۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر شوکت علی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ بیان خطرناک اور غیر منصفانہ ہے۔ ہندوستانی مسلمان باہر سے نہیں آئے، ہم یہاں ہی پیدا ہوئے ہیں، یہ ملک اتنا ہی ہمارا ہے جتنا کسی اور کا ہے۔ شہریوں کو کسی دوسرے ملک جانے کا کہنا آئین کے خلاف ہے۔مقامی مسلمانوں نے ساھوی پراچی کے متنازعہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ ہندوتوا لیڈر کا یہ بیان بلا وجہ طورپرمسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے ۔قانونی ماہر ایڈووکیٹ فرح نقوی نے کہاہے کہ بھارت کا آئین شہریت کو مذہب سے نہیں جوڑتا۔ ایسے ریمارکس جن میں شہریوں کے ایک حصے کو ملک چھوڑ کر چلے جانے کا کہا جائے ، مساوی حقوق کی ضمانت کی خلاف ورزی ہیں۔سماجی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے بار بار بیانات سے سماجی امن و ہم آہنگی کی فضا متاثرہوتی ہے۔ سماجی کارکن عبدالرحمن نے کہاکہ اس طرح کی گفتگو سے مسلمانوں میں بد اعتمادی اور خوف پیداہوتا ہے۔حزب اختلاف کے رہنمائوں نے کہاہے کہ تمام شہریوں کے لیے ملازمتوں، تعلیم اور عوامی تحفظ پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ مغربی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے کانگریس لیڈر نے کہا، ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں پنہاں ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button