ہریانہ:بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کسانوں کا ٹریکٹر مارچ

چندی گڑھ: بھارتی ریاست ہریانہ میں کسانوں نے مجوزہ بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کیلئے مختلف اضلاع میں ٹریکٹر مارچ کیا اور حکومت سے معاہدے کی فوری منسوخی مطالبہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتیہ کسان یونین (چارونی)کے زیر اہتمام سینکڑوں کسانوں نے ضلع کیتھل کے قصبہ پلندری کی مقامی غلہ منڈی میں اجلاس کے بعد ٹریکٹر مارچ کیا۔ مظاہرین قصبے کے مختلف علاقوں سے مارچ کرتے ہوئے تحصیل آفس کے باہر پہنچے اورمجوزہ بھارت امریکہ معاہدے کی کاپیاں نذرِ آتش کیں۔کسان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اس تجارتی معاہدے سے بھارت کے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور مقامی کسانوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکی زرعی مصنوعات کو کم یا صفر ٹیرف پر بھارتی منڈیوں تک رسائی دینے سے مقامی پیداوار متاثر ہوگی اور لاکھوں کسانوں اور زرعی مزدوروں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔اسی طرح کے ٹریکٹر مارچ ضلع امبالا اور کروکشیترا میں بھی کئے گئے جہاں مظاہرین نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور حکومت پر بڑے کارپوریٹ گروپوں کے مفادات کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا۔بھارتیہ کسان یونین کے رہنمائوں نے اعلان کیا کہ احتجاجی تحریک کو مزید تیز کرنے کے لیے 23 مارچ کو ایک بڑی”کسان مزدور جن کرانتی ریلی”نکالی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مجوزہ تجارتی معاہدہ منسوخ نہ کیا تو ملک بھر میں کسان اپنی احتجاجی مہم میں مزید تیزی لائیں گے۔







