جینو سائڈ واچ کا نسل کشی کے لئے بھارت کی مسلسل تیاری پر اظہارتشویش
عالمی برادری ہندوانتہا پسندی کو روکنے ، تربیتی کیمپوں پر پابندی کا مطالبہ کرے

نیویارک: جینوسائیڈ واچ نے بھارت میں نسل کشی کے لئے ہونے والی مسلسل تیاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جسمیں بڑھتی ہوئی مسلم دشمن بیان بازی، ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے چلائے جانے والے ہتھیاروں کے تربیتی کیمپوں اور مذہبی جلوسوں کے دوران باربار تشدد کے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جینوسائیڈ واچ واشنگٹن میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو نسل کشی اوراس تک لے جانے والے مختلف مراحل کو اجاگر کرتیہے۔ اس کی بنیاد گریگوری اسٹینٹن نے 1999 میں رکھی تھی۔ تنظیم نے کہاکہ بھارت نسل کشی کے دس مراحل میں سےساتویں مرحلے پر ہے اوریہ تیاری کا وہ مرحلہ ہے جب رہنما بڑے پیمانے پر قتل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اکثر کوڈڈ یا بالواسطہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ تنظیم نے بتایاکہ نسل کشی کے منصوبوں کو عام طور پر”سیلف ڈیفینس “یا ”انسداد دہشت گردی“ جیسی اصطلاحات کے ذریعے چھپایا جاتا ہے اور لوگوں کو مسلح اور متحرک کرنے سے ان کی حمایت کی جاتی ہے۔اس عمل کا ایک لازمی پہلو فوجوں اور ملیشیاو¿ں کو بنانا اور مسلح کرنا اور انہیں نسل کشی کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ بھارتمیں یہ عمل اس وقت ظاہر ہوا جب معروف ہندو مذہبی اور سیاسی رہنماو¿ں نے کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کا مطالبہ کیا اورہندوانتہاپسندوں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کا مطالبہ کیا۔
پیر کو جاری ہونے والی جینوسائڈ واچ کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بھارت میں ہندوتوا لیڈروں نے کھلے عام مسلمانوں کے خلاف تشدد کا مطالبہ کیا ہے اور انتہا پسند گروپ مسلح کیمپوں کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور مسلمانوں کو ہندو معاشرے کے لیے خطرہ قراردیتے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا کہ بجرنگ دل جیسی تنظیموں نے ”سیلف ڈیفنس کیمپ“ منعقد کئے ہیں جہاں نوجوان ہندو مردوں کو ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے۔جینوسائیڈ واچ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں ٹارگٹڈ تشدد کے لیے منظم تیاری کی عکاسی کرتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ریلیوں میں اشتعال انگیز تقاریر میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں 2023 میں تلنگانہ سے بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کی تقریر کا حوالہ دیا گیاجس نے لو جہادکی سازشی تھیوری کے تناظر میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی دھمکی دی تھی۔ہندو انتہاپسندوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمان مرد جان بوجھ کر ہندو خواتین سے شادی کرتے ہیں تاکہ انہیں مسلمان بنایا جا سکے۔ ناقدین اسے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے ایک بے بنیاد سازشی تھیوری قراردیتے ہیں۔
رپورٹ میںحالیہ برسوں میں رام نومی کے جلوسوں کے دوران تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ 2023 میں جب رام نومی مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں آئی، کم از کم سات ریاستوں میں تشدد بھڑکایاگیا۔رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال، گجرات اور مہاراشٹر سمیت مختلف ریاستوں میں ہندوﺅں کے مسلح جلوس مسلمانوں کے محلوں سے گزرے اور املاک اور مساجد کو نقصان پہنچایا جبکہ پولیس اہلکار اور شہری بھی زخمی ہوئے۔رپورٹ میں کہاگیاکہ کچھ معاملات میں پولیس کی کارروائی نے غیر متناسب طور پر مسلمان باشندوں کو نشانہ بنایا۔رام نومی ریلیوں کی تصاویر میں شرکاءکو تلواریں اور دیگر ہتھیار اٹھائے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نمائش سے اقلیتی برادریوں میں خوف ودہشت پھیلایا جارہا ہے۔
جینو سائڈ واچ نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں 2025 کے حملے کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں 25 سیاح اور ایک مقامی گائیڈ مارےگئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور گانے سامنے آئے جن میں مسلمانوں سے انتقام کا مطالبہ کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ڈیجیٹل پیغامات نفرت پھیلانے اورتشددپراکسانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔تنظیم نے مطالبہ کیاکہ بھارتی حکومت ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے ہتھیاروں کے تربیتی کیمپوں کو غیر قانونی قراردے اورانہیں ختم کرے۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد کی حمایت کرنے والے بھارتی ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ سے نکال دیا جائے اور ان کو حاصل پارلیمانی استثنیٰ ختم کیا جائے۔ یوٹیوب، فیس بک اور واٹس ایپ جیسے بھارت کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نفرت انگیز تقاریر ، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر اکسانے والے مواد پر پابندی لگا ئیں۔امریکی کانگریس، یورپی پارلیمنٹ، اور اسلامی تعاون تنظیم سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر پر پابندی لگانے میں ناکامی پر بھارت کی مذمت کریں۔امریکہ، یورپی یونین اوراو آئی سی بھارت سے مطالب کریں کہ وہ بھارتی ریاستوںمیں انسداد تبدیلی مذہب اور گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے قوانین کو منسوخ کرے اور مسلمانوں پر حملوں کا باعث بننے والے ہندوجلوسوں پر پابندی لگانے کے لیے قوانین بنائے۔






