کشمیری صحافی عرفان معراج کی جیل میں نظربندی کو ایک ہزار دن مکمل
جرنلسٹ فیڈریشن آف کشمیر کی طرف سے عرفان کی رہائی کا مطالبہ

سرینگر:جرنلسٹ فیڈریشن آف کشمیر نے معروف کشمیری صحافی عرفان معراج کی بھارتی جیل میں غیر قانونی نظربندی کو ایک ہزار دن مکمل ہونے پر انکی رہائی کا مطالبہ دوہرایا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جے ایف کے نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ عرفان معراج کی طویل نظربندی سے مقبوضہ علاقے میں آزادی صحافت پر عائد قدغن کی عکاسی ہوتی ہے ۔ بیان میں عرفان معراج کی غیر قانونی نظربندی کو ایک سانحہ اور جموں وکشمیرمیں آزادی صحافت کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار دیاگیاہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ "صحافت کوئی جرم نہیں ہے،”اور انسانی حقوق اور سماجی مسائل پر رپورٹنگ کو مجرمانہ سرگرمی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والے صحافی عرفان معراج، وانڈے میگزین کے بانی ایڈیٹر ہیں اور ٹو سرکلز ڈاٹ نیٹ کے ساتھ بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے رائزنگ کشمیراور ڈوئچے ویلے سمیت متعدد مقامی اور بین الاقوامی اشاعتی اداروںاکے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ 2024 میں، انہیں کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رحجان پر رپورٹ جاری کرنے پر انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق ایوارڈ ملاتھا۔انہیں 20مارچ 2023 کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت دلی کی تہاڑ جیل میں قیدہیں ۔ جرنلسٹ فیڈریشن آف کشمیر نے بیان میں مزیدکہاہے کہ صحافیوں کے خلاف کالے قوانین کے بے دریغ استعمال سے میڈیا کی آزادی کے بارے میں سنگین خدشات جنم لیتے ہیں ۔فیڈریشن نے مزید کہا کہ عرفان معراج کی مسلسل نظربندی کی وجہ سے انکے اہلخانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ بیان میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے گروپوں اور آزادی صحافت کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ عرفان معراج کی رہائی کیلئے اپنی آواز بلند کریں۔ جے ایف کے نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں اورخوفزدہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔





