کشمیریوں کی حا لتِ زار نے مجھے استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا:سابق آئی اے ایس افسر
جب شہریوں کی آوازیں خاموش کر دی جائیں تو کسی اور کو ان کی طرف سے بولنا پڑتا ہے
نئی دہلی: بھارتی ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے سابق افسر کنن گوپی ناتھن نے کہا ہے کہ اگست 2019 میں دفعہ370 کی منسوخی کے بعد سول سروس سے ان کا استعفیٰ جموں و کشمیر میں بنیادی حقوق کے تحفظ میں بھارتی ریاست کی ناکامی پر تشویش کی وجہ سے تھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق صحافی عارفہ خانم شیروانی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گوپی ناتھن نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ حکومت کو سیاسی فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ تھا کہ کیا شہریوں کو اس فیصلے پر ردعمل دینے کا حق حاصل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی تھی کہ کشمیر میں ہم نے فیصلہ کر لیا ، اب سب خاموش ہو جائیں، کسی کو بولنے کا حق نہیں ہے۔گوپی ناتھن نے 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ علاقے میں مواصلاتی نظام اور آمدورفت کی مکمل بندش اور سیاسی رہنماوں کی گرفتاریوں کی نشاندہی کی جبکہ مودی حکومت اپنے بیانات میںمعمول کے حالات کا دعویٰ کرتی رہی۔انہوں نے کہا کہ تمام آمدورفت بند کر دی گئی، تمام مواصلاتی ذرائع منقطع کر دیے گئے، موبائل فون نہیں تھے، انٹرنیٹ نہیں تھا اور تمام سیاسی رہنماوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ آئی اے ایس افسر نے کہا کہ ان پابندیوں نے ایک بنیادی آئینی سوال کھڑاکردیا، جبکہ عدلیہ اور میڈیا سمیت تمام اداروں نے قومی مفاد کے نام پرآنکھیں بند کر لیں۔ انہوں نے کہاجب سوال اٹھانے والے ہر شخص کو ملک دشمن قرار دیا جائے تو آپ کو ان کے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا بھارت اپنے آئینی وعدوں کے حوالے سے واقعی سنجیدہ ہے۔گوپی ناتھن نے کہا کہ انہوں نے اس لیے استعفیٰ دیا کیونکہ ملازمت کے دوران عوامی سطح پر اظہارِ خیال کرنا ضابط اخلاق کی خلاف ورزی ہوتی، جبکہ ریٹائرمنٹ تک خاموش رہنا ان کے لیے کوئی آپشن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا جب شہریوں کی آوازیں خاموش کر دی جائیں تو کسی اور کو ان کی طرف سے بولنا پڑتا ہے۔








