مقبوضہ کشمیر:انسدادِ منشیات کی آڑ میں نگرانی اور جبر میں اضافہ
کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے منصوبہ بندی کے تحت منشیات سے جوڑاجا رہا ہے
سرینگر :
بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیرمیں مودی کی بھارتی حکومت نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف انسدادِ منشیات کی آڑ میں ریاستی نگرانی اور جبر کے اقدامات تیزکردیئے ہیں ، جس پر ماہرین اور مبصرین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کی کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد کو بدنام کرنے اور تحریک خودارادیت کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منشیات سے جوڑا جا رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سیاسی اختلافِ رائے کو مجرمانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مودی حکومت متنازعہ قوانین جیسے” پی آئی ٹی این ڈی پی ایس ایکٹ ”اور جدید ٹریکنگ نظام متعارف کرارہی ہے ۔بھارت ان کالے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رہا ہے، جہاں منشیات کے خلاف کارروائی محض ریاستی نگرانی کا ایک بہانہ ہے۔ ان قوانین کے تحت کشمیری نوجوانوں کی جبری نظربندی دراصل تحریک آزادی کودبانے اور نوجوان نسل کو مجرم قرار دینے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے جو پہلے ہی بھارت کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہے۔ماہرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نہ صرف شہری آزادیوں کو محدود کرنا بلکہ پوری آبادی کو ایک مسلسل نگرانی کے نظام کے تحت لانا ہے ۔مقبوضہ وادی کشمیر میں پہلے ہی شدید خوف ودہشت اور عدم تحفظ کاماحول قائم ہے اور کشمیری نوجوانوں کی جبری گرفتاریوں کاسلسلہ جاری ہے ۔ نیشنل کوآرڈینیشن میکانزم کے تحت مقبوضہ کشمیر کے تعلیمی اداروں اور زرعی شعبے کو بھی نگرانی کے دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اسکولوں کو "احتیاطی تعلیم” کے نام پر نگرانی کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ زرعی شعبے میں مداخلت کے ذریعے دیہی آبادی کو متاثر کیا جا رہا ہے،تاکہ کشمیری کسانوں کو ان کے روزگار سے محروم کیاجاسکے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں منشیات کے استعمال کو سکیورٹی کا ایک مسئلہ بنا کر پیش کرہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مودی حکومت کی ان پالیسیوں سے خطے میں ایک سرویلنس اسٹیٹ کے قیام کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں سماجی بہبود کے نام پر شہریوں کی زندگی کے ہر پہلو کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق پالیسیوں کو ترتیب دیا جائے تاکہ مقبوضہ علاقے میں میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔







