مضامین

ریاست جموں وکشمیر پر قبضے کی بھارتی سازش اور کوہالہ پل پر حریت پسندوں کا قبضہ

تحریر: اعجاز حسین

21اور 22 اکتوبر کی درمیانی رات کو آزادی کشمیر کی جدوجہد میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔اس رات ریاست کے حریت پسند مسلمانوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جس کے نتیجہ میں برہمنی استعمار ساری ریاست جموں وکشمیرکو ترنوالے کی طرح ہڑپنے میں ناکام ہوگیا۔
اس عظیم کارنامے اور ان سلسلہ وار واقعات جو اس کارنامے کی انجام دہی کا سبب بنے، سے واقفیت بھارت نواز لوگوں کے اس جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول کے رکھ دیتا ہے جس کے مطابق بھارت سے مہاراجہ کشمیر کا الحاق قبائلی حملے کا نتیجہ تھا۔
حریت پسندوں کی فوج کشی سے دس دن قبل روزنامہ ڈان میں 13 اکتوبر1947کو ایک خبر شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ کشمیر کا مہاراجہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے والا ہے، اس غرض سے خفیہ تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ یہ خبر اخبار کے دہلی کے نمائندے نے بھیجی تھی۔ اسی طرح 29 جولائی1947 کو انڈیا کے ایک معتبر روزنامے سیول اینڈ ملٹری گزٹ میں چھپنے والی چھوٹی سی خبر کشمیر کی اندرونی سیاست اور حکومتی عزائم کی ایک اور جھلک دکھاتی ہے، اخبار کے مطابق کشمیر کی حکومت نے فوری طور پر کٹھوعہ پٹھان کوٹ روڈ کی پختگی کا کام شروع کردیا ہے۔ یہ سڑک جموں کو ہندوستان سے ملانے کا واحد زمینی راستہ تھی۔ امریکہ کی سابق سیکرٹری آف سٹیٹ میڈ لین البراٹ کے والد جوزف کوربل اپنی کتاب Danger in Kashmir کے صفحہ 59 پر لکھتے ہیں کہ جموں کو ہندوستان سے ملانے والی سڑک کی تعمیر کے ساتھ ساتھ دریائے راوی پر کشتیوں کا عارضی پل بھی قیام پاکستان کے ساتھ ہی بننا شروع ہوگیا تھا۔ ان کے خیال میں ریاستی حکومت پل کی تعمیر سے فوجی نقل و حرکت اور اسلحہ کی ترسیل کو آسان بنا نا چاہتی تھی اور سڑک اور پل کو صیغہ راز میں رکھا گیا۔
19 جون1947 سے لاڑڈ مونٹ بیٹن نے ریاست جموں وکشمیر کا پانچ روزہ دورہ کرکے ہندو مہاراجہ کو بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کی ترغیب دی۔اگلے مرحلے میں پہلی اگست سے ساتویں اگست 1947 تک گاندھی نے ریاست جموں وکشمیر کا دورہ کرکے اس مسلم اکثریتی ریاست کو ہڑپنے کے کام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہاں کے ہندو حکمرانوں کو بھارت کے ساتھ ملنے پر آمادہ کرلیا، اسی سفر کے دوران گاندھی نے ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ کی صلح کروائی، ہری سنگھ نے شیخ عبداللہ سے معافی نامے کی شرط رکھی جس کے لئے گاندھی نے شیخ عبداللہ سے جیل میں ملاقات کی اور شیخ کو معافی نامے کے لئے آمادہ کیا۔ ان دنوں شیخ عبداللہ جیل میں بغاوت کے الزام میں 9 سال کی سزا بھگت رہا تھا اور ہری سنگھ نے انہیں یکایک یکم اکتوبر1947 کو رہا کردیا۔گاندھی کے کشمیر سے رخصت ہوتے ہی مسلم اکثریتی کشمیر کو بھارت کے چنگل میں پھنسانے کے مکروہ عمل کا مرحلہ وار آغاز شروع ہوگیا۔11 اگست 1947 کو ریاست سے تعلق رکھنے والے اور بھارت کے ساتھ الحاق کی مخالفت کرنے والے کشمیری ہندو پنڈت رام چندر کاک کوریاست کی وزارت اعظمی سے برطرف کیا گیا۔ان کی جگہ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے ریٹائیڈ میجرجنرل جنک سنگھ کوریاست کا وزیراعظم بنایا۔میجر جنرل جنک سنگھ کو کس لئے وزیر اعظم بنایا گیا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 13 ستمبر 1947کو ریاست کی حکومت نے بھارتی فوج کے کرنل کشمیر سنگھ کی خدمات بھارت سے مستعارلے لیں۔یہ کشمیر سنگھ اس جنک سنگھ کا سگا بیٹا تھا۔اس نے ریاست پر بھارتی قبضے کے لئے اہم خدمات انجام دی۔بعد میں یہی کشمیر سنگھ بھارتی فوج کا لیفٹیننٹ جنرل بن گیا۔
15 اکتوبر 1947 کو جنک سنگھ کی جگہ انڈین نیشنل کانگریس سے تعلق رکھنے والے مہر چند مہاجن کو ریاست کا وزیر اعظم بنایا گیا۔بعد میں اسی مہرچند مہاجن کو بھارت کے سپریم کورٹ کا تیسرا چیف جسٹس بنا یا گیا۔اس سے پہلے پنجاب باونڈری کمشن میں یہی مہرچند مہاجن انڈین نیشنل کانگریس یا بھارت کی نمائندگی کرچکا تھا اور گرداس پور کو ہڑپنے میں اہم خدمات انجام دے چکا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ریاست جموں کشمیر کے ساتھ معاہدہ قائمہ (Standstill Agreement) کرلیا تھا جبکہ بھارت نے اسطرح کا معاہدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔مہر چند مہاجن کے وزیراعظم بننے کے ساتھ ہی یہ بات بالکل یقینی ہوگئی تھی کہ ہندو مہاراجہ بھارت کے ساتھ الحاق کرنے ہی والا ہے۔ اسی دوران سکھ ریاست پٹیالہ کے فوجی دستے مہاراجہ کی فوج کو تقویت پہنچانے کے لئے ریاست جموں و کشمیر میں وارد ہو چکے تھے۔ پٹیالہ کے فوجی دستوں نے سرینگر کے ہوائی اڈے کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔اس کا توڑ کرنے کے لئے حریت پسند مقدور بھر کوششیں کرتے رہے۔
یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ حکام نے مسلمان فوجیوں، پولیس اور عام شہریوں سے بندوقیں اور دیگر اسلحہ ضبط کر لیا تھا۔ اس پوری صورتحال کی سنگینی کو بھانپ کر سردار ا محمد ابرہیم خان مجاہدین علاقہ غیر (جو بعد میں فاٹا بنایا گیا اور اب صوبہ خیبر پختونخواہ کا باضابطہ حصہ ہے) کو ایک معاہدے کے تحت امداد کے لئے راضی کیا جس کی بدولت مظفرآباد اور اسکے ملحقہ علاقوں کو آزادی نصیب ہوئی۔
کوہا لہ کے مقام پردریائے جہلم پر بنے پل کوپاکستان اور ریاست کے درمیان رابطے کے حوالے سے کلیدی اہمیت حاصل تھی۔حریت پسندوں جن میں ریاست کے مسلمان فوجی اور سول ملازمین بھی شامل تھے کو کسی طرح علم ہوا کہ اس پل کو اڑا دیا جائے گا۔پل کے اڑا دیئے جانے سے پہلے ہی پونچھ سے تعلق رکھنے والے حریت پسندوں اور ریاست کے مسلمان فوجیوں نے 21 اور 22 اکتوبر کی درمیانی رات کے دوران میں مقامی ہندو فوجیوں میں سے بعض کو موت کے گھاٹ اتارا اور بعض کو گرفتار کرکے پل کو دشمن کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچایا اور اسے اپنے قبضے میں کیا۔
26 اور 27 اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ رات کے اندھیرے میں وادی کشمیر سے جموں کی طرف بھاگ گیا۔27 اکتوبر کو بھارتی فوج سرینگر کے ہوائی اڈے پر اترنا شروع ہوگئی۔ ہوائی اڈے کو ریاست یٹیالہ کے فوجی پہلے ہی اپنی تحویل میں لیکر بھارت کے لئے محفوظ بنا گئے تھے۔یوں وادی کشمیر ،جموں اور لداخ خطے کی غلامی کی اس سیاہ رات کا آغا ز ہوا
باقی تاریخ ہے۔
یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اگر اس رات حریت پسندوں نے کوہالہ پل کو محفوظ بنانے کا کارنامہ انجام نہ دیا ہوتا تو شاید اس وقت آزاد جموںو کشمیر کے نام سے یہ خط بھی ہمارے پاس نہ ہوتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button