روح اللہ مہدی کا مقبوضہ جموں وکشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہار تشویش
مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے، رکن بھارتی پارلیمنٹ

نئی دہلی:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن روح اللہ مہدی نے علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انہوںنے نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز نے حالیہ دنوں کے دوران مقبوضہ وادی میں 5سو سے زائد نوجوانوںکو گرفتار کیا ، گرفتاری کے وقت ان نوجوانوںکو بہیمانہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور انکے فون ضبط کیے گئے جسکے بعد انہیں نامعلومات مقامات پر منتقل کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ مقبوضہ علاقے کے لوگوںکو اجتماعی طور پر سزا دی جارہی ہے ۔ انہوںنے ضلع بارہمولہ میں وسیم احمد میر نامی ٹرک ڈائیور کے قتل پر بھی سوالات اٹھائے ہوئے کہاکہ فورسز کا کہنا ہے کہ ٹرک کو اس لیے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اسکے ڈرائیور نے فرار ہونے کی کوشش کی لہذا حکام کو چاہیے کہ وہ جائے وقوعہ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج جار ی کریں تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔
روح اللہ نے ٹرک ڈرائیور سیم احمد میر اور کٹھوعہ کے رہائشی نوجوان مکھن دین کے قتل کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
انہوںنے مزید کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ نے جموںوکشمیر کی صورت حال پر غور وخوض کیلئے حال ہی میں نئی دلی میں ایک اجلاس بلایا جس میں علاقے کے لیفٹیننٹ گورنر اور فورسز حکام مدعو تھے لیکن اجلاس میں نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت مقبوضہ علاقے کی منتخب حکومت کے کسی بھی نمائندے کو شامل نہیں کیا گیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوںنے کہا یہ بات قابل غور ہے کہ اس اجلاس کے بعد علاقے کی صورتحال مزید خراب ہو گئی۔
بھارتی فوجیوں نے بدھ کے روز ضلع بارہمولہ کے علاقے سنگرامہ چوک میں تلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر ایک ٹرک کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اسکا ڈرائیور وسیم احمد میر شہید ہو گیا تھا۔ بھارتی پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے جموں خطے کے ضلع کٹھوعہ میں مکھن دین نامی ایک نوجوان کو دوران حراست تشدد کر کے شہید کردیاتھا۔





