پاکستان

”ایف آئی ڈی ایچ ، او ایم سی ٹی“ کی مقبوضہ جموں وکشمیر میں کتابوں پر پابندی کی مذمت

اسلام آباد: انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ) اور ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر (او ایم سی ٹی) نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انتظامیہ کیطر ف سے 25 علمی اور صحافتی کتابوں پر پابندی کی مذمت کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق” ایف آئی ڈی ایچ اور او ایم سی ٹی “ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ کتابوں پر پابندی کا اقدام تعلیمی اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے اور یہ معلومات تک رسائی پر قدغن کا واضح مظہر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندی تشویشناک ہے جو کشمیر میں بڑے پیمانے پر جبر کی نشاندہی کرتی ہے جہاں پہلے ہی انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی آوازوں کو نظر بندی ، مقدمات اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جموں وکشمیر میں اختلاف رائے کی آوازوں کو خاموش کرانے کیلئے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون ”یو اے پی اے “ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کا استعمال مسلسل جاری ہے ، یہ قوانین انسانی حقوق کے عالمی معیارات کے منافی ہیں لہذا حقوق کے اداروں کی طرف سے انکی بارہا مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں سنسر شپ اور نگرانی کا ماحول پہلے ہی انسانی حقوق کے محافظوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کے ممتاز کشمیری کارکن خرم پرویز، صحافی عرفان معراج یو اے پی اے کے تحت نظر بند ہیں۔
’ ایف آئی ڈی ایچ اور او ایم سی ٹی “ نے مشترکہ بیان میں مزید کہا کہ کتب پر پابندی دراصل دستاویزات کو دبانے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عوامی جانچ کو روکنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بیان میں بھارتی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کے حق اور ان لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں جو سنگین خطرات کے باوجود کشمیرمیں انسانی حقوق پر بات کرتے اور لکھتے رہتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button