پاکستان کی سندھ طاس معاہدے کی معطلی، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارت کی کوششوں کی مذمت
اقوام متحدہ:
پاکستان نے 1960کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارت کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کی 2026کی اہم آبی کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کے دوران کہا کہ پانی کو تقسیم کا ذریعہ نہیں بلکہ متحد کرنے والی قوت کے طور پر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پانی کے بطور ہتھیار استعمال کر کے 225ملین سے زائد لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی بھارت کی کوششوں کی مذمت کی ۔انہوں نے کہا کہ خطے میں ایک ملک کی طرف سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حالیہ کوششوں کے باوجود، پاکستان 2026 کی آبی کانفرنس پائیدار ترقی کے اہداف کے چھٹے ہدف کے حصول پرعمل درآمد تیز کرنے اور دریائوں اور تازہ پانی کے ذخائر کے پائیدار انتظام کیلئے بین الاقوامی قانون پر مبنی نقطہ نظر کے فروغ کیلئے پر عزم ہے ۔ پاکستانی مندوب کے معقول ریمارکس پر اقوام متحدہ میں بھارت کی سفیر پرواتھینی ہریش نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور ناقابل قبول اور اس اہم کانفرنس کو سیاسی رنگ دینے کی ایک اور دانستہ کوشش قرار دیا، جس پر پاکستانی مندوب نے بھاری سفیرکو فوری طورپر چیلنج کیا۔ انہوں نے اپنے جواب کے حق کا استعمال کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت آج کے اجلاس کو اپنے جھوٹے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کررہاہے ۔انہوں نے بھارتی سفیر کے الزامات اور بے بنیاد دعووں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کیلئے اپنی ریاستی سرپرستی میں پراکسیوں کا استعمال کر رہا ہے، اسکے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہائیوں سے جاری ریاستی دہشت گردی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔محمد فہیم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بھارتی بیان حقائق بے نقاب کرنے اور بین الاقوامی معاہدے کی جان بوجھ کر غلط تشریح کے سوا کچھ نہیں، جس کا مقصد سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اس کے غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلے کو غلط ثابت کرنا ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت وہ ملک ہے جس نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کرنے کے باوجود متعدد مواقع پر معاہدے کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کی ہے ۔انہوں نے یاد دلایا کہ 27جون 2025کو اعلان کردہ ایک ضمنی ایوارڈ میں، ثالثی عدالت نے پاکستان کے موقف کی توثیق کی ہے کہ کوئی بھی فریق معاہدے کو یکطرفہ طورپر ختم نہیں کر سکتا او ر عدالت کی بطور ثالچ حیثیت مسلسل برقرارہے ۔






