بھارت کی آبی جارحیت ، پاکستان کو غیر معمولی سیلابی صورتحال کا سامنا

اسلام آباد: بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی معطلی اور پانی چھوڑے جانے کی بروقت اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اطلاع کی عدم فراہمی کیوجہ سے پاکستان کو ایک غیر معمولی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے دانستہ طور پر پہلے اپنے ڈیم پوری طرح پانی سے بھر دیے ، پھر بروقت اور مروجہ طریقہ کار کے تحت پانی چھوڑنے کی اطلاع نہ دی جس نے مون سون کی شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی کو مزید بڑھا دیا ہے اورور دریائے چناب، راوی اور ستلج میںپانی کی سطح انتہائی بلند ہو گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں ملک پانی کے غیر معمولی اخراج کی بروقت اطلاع دینے کے پابند ہیں تاکہ مادی نقصان کو روکا جاسکے جب کہ بھارت نے ایک محدود الرٹ جاری کیا جبکہ دریائے ستلج کے بارے میں اس نے کو ئی اطلاع فراہم ہی نہیں کی ۔ یہ دریا 122,000 کیوسک سے تجاوز کر گیا، جس سے جنوبی پنجاب کے بیشتر حصے ڈوب گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 23 پریل کو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد سے بھارت نے چناب کے پانیوں کے اخراج میں ہیرا پھیری کی ہے، جس سے پہلے پانی کی قلت پیدا ہو گئی اور بعد میں اچانک پانی چھوڑ دیا گیا، جس سے یہاں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اگرچہ بھارت نے پانی چھوڑے جانے کی ااطلاع دی لیکن یہ ناکامی تھی اور اس اطلاع میں تینوں مشرقی دریاﺅں بیاس ، ستلج اور راوی کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے عالمی اصول و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور اب وہ ایک ننگی آبی جارحیت کر رہا ہے جس سے پاکستان کی زراعت، معیشت کیلئے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں






