پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب تنازعات پر بات چیت کیلئے تیار : دفتر خارجہ
بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، شفقت علی خان
اسلام آباد:
پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب تنازعات پربات چیت کے لیے تیار ہے۔پاکستان کی پالیسی واضح ہے اور فیصلہ بھارت کو کرنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بھارت کو سنجیدہ مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے،فیصلہ اب بھارت کو کرنا ہے ، وہ کونسی پالیسی اپناتا ہے۔شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان پرامن سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے، تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ پاکستان کا موقف امن، قانون اور اصولوں پر مبنی ہے۔ سفارتکاری کسی پر احسان نہیں بلکہ دوطرفہ مفاد کا ذریعہ ہے۔انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں کمی کیلئے امریکہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ علاقائی استحکام اور عالمی امن سفارتکاری سے ہی ممکن ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان کو اپنی صلاحیتوں پرمکمل اعتماد ہے اور بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے پاک بھارتی کشیدگی میں کمی کے لیے دوست ممالک کے کردار کی بھی تعریف کی۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اعلیٰ سطح کے دورے پر امریکا میں ہیں، انہوں نے یو این سیکریٹری جنرل اور صدر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں ۔اسحاق ڈار نے نیویارک میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا اصولی موقف پیش کیا اور مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی ساکھ کا امتحان قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے معاملات پر پاکستان نے عالمی فورمز پر آواز بلند کی، پاکستان کی صدارت میں سلامتی کونسل نے قرارداد 2788متفقہ طور پر منظور کی، قرارداد میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اقدامات پر زور دیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسحاق ڈار نے یو این سلامتی کونسل میں غزہ اور فلسطین کے معاملے پر بات کی۔ انہوں نے مشرق وسطی کی صورتحال پر کھلی بحث میں بھی شرکت کی۔ اسحاق ڈار امریکی وزیرخارجہ سے بھی ملاقات کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے فلسطین میں انسانی بحران پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، صرف ایک خودمختار فلسطینی ریاست ہی مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہے۔






