پاکستان

انسداد دہشتگردی کے اقدامات کو انسانی حقوق کی پامالیوں کیلئے استعمال نہیں کیاجاناچاہیے

اقوام متحدہ:
پاکستان نے ہر قسم کی دہشت گردی اور اس کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیلئے استعمال نہیں کیا جاناچاہیے جیسا کہ قابض قوتیں فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کر رہی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عثمان جدون نے جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی میں بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات پر بحث کے دوران کہا ہے کہ عالمی برادری کو اجتماعی طور پر طویل عرصے سے حل طلب تنازعات ، غیر ملکی قبضے اور نوآبادیاتی تسلط اور غیر ملکی حکمرانی کے تحت زندگی گزارنے والے لوگوں کو ان کا حق خود ارادیت نہ دینے جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی اور غیر ملکی قبضے کے خلاف عوام کی جائز جدوجہد اور ان کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کے درمیان واضح فرق کرنا ہوگا۔انہوں نے واضح طور پر بھارت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کے پاس اس بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو شکست دینے کا عزم، حوصلہ اور مکمل صلاحیت ہے۔ پاکستان کی دفاعی افواج نے مئی میں بلا اشتعال بھارتی جارحیت کا مناسب جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں سرحد پار قتل و غارت، پراکسی دہشت گردی اور آبی دہشت گردی جیسے ہتھکنڈوں کو بھی انسداد دہشت گردی کے عالمی ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔بھارتی مندوب نے اپنے ردعمل میں پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات عائد کیے، خاص طور پر پہلگام واقعہ میں ملوث ہونے کا دعوی کیا ۔پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نہ صرف ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے بلکہ جھوٹے بیانیے، پروپیگنڈے اور گمراہ کن اطلاعات کے ذریعے نفرت کو ہوا دے رہا ہے، جو اس کی تنگ نظر خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔پہلگام حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان مشن میں قونصلر محمد جواد اجمل نے جواب دینے کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس واقعے کی نہ صرف مذمت کی بلکہ آزادانہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی۔ ابھی تک اس حملے کے ذمہ داروں کے شواہد پیش نہیں کیے گئے اور واقعے کی تفصیلات بھی تاحال نامعلوم ہیں۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ نہ صرف پاکستان کی تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کیا گیا بلکہ پاکستان پر حملہ کیا گیا، اس کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کی گئی اور خواتین اور بچوں سمیت 54بے گناہ پاکستانی شہریوں کو شہید کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انتہائی سوچا سمجھا اور محتاط ردِعمل کامیابی سے ہمکنار ہوا، جس کے نتیجے میں امریکا کی ثالثی سے، بھارت کی درخواست پر جنگ بندی عمل میں آئی۔سرحد پار دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات ایک سوچی سمجھی سازش ہیں، جن کا مقصد جھوٹ کو اتنی بار دہرانا ہے کہ وہ سچ مان لیا جائے حالانکہ یہ زمینی حقائق سے یکسر متصادم ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button