بھارتی جنرل پاکستان کے خلاف”آبی جارحیت”کی وکالت کررہے ہیں

سرینگر: بھارتی فوج کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلون کھلے عام پاکستان کے خلاف پانی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی وکالت کررہے ہیں جس سے ملک میں بار بار آنے والے سیلاب اور تباہی کے پیچھے بھارت کے مذموم عزائم بے نقاب ہوئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو انٹرویو میں جنرل ڈھلون سندھ طاس معاہدے کوبین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاہدے کے بجائے محض دو طرفہ انتظام قراردیتے ہوئے کہہ رہے ہیںکہ بھارت کو اس کا پابند نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا اگربھارت پاکستان کے خلاف آبی وسائل کو بطورہتھیاراستعمال کرتا ہے تو اس پر بھارت کو عالمی سطح پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔مبصرین نے اس بیان کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ پاکستان میں پانی کے غیر معمولی اخراج اور سیلاب سے ہونے والی تباہی قدرتی نہیں بلکہ انسانی ساختہ ہے جو بھارت میں ایک خطرناک پالیسی فریم ورک کے تحت ترتیب دی گئی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل ڈھلون کا بیان بھارت کی جارحانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اب جموں و کشمیر پر قبضے سے آگے بڑھ کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دریائوں کو بطورہتھیاراستعمال کررہاہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی فوج اپنی بیرکوں میںموت اور تباہی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور سیاسی قیادت اس کی تائید کررہی ہے۔





