کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت سب سے زیادہ گرفتاریاں مقبوضہ کشمیر میں کی جا رہی ہیں، بھارتی حکومت کا اعتراف

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت سب سے زیادہ گرفتاریاں مقبوضہ جموں وکشمیر میں کی جارہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2019میں227 ،2020میں 346، 2021میں645 ،2022میں 1ہزار 2سو 38جبکہ 2023 میں 1ہزار 2سو 6افراد گرفتار کیے گئے۔ مقبوضہ علاقے میں کالے قانون کے تحت بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور سزاﺅں میںواضح فرق اسکے غلط استعمال کی واضح نشاندہی کرتا ہے ۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار مقبوضہ جموںوکشمیر میں کالے قانون ”یو اے پی اے “ کے بے جا استعمال کر واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں سیاسی کارکنوں، طلباءاور عام شہریوں کے خلاف کالے قوانین کا بے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ مبصرین کا کہنا کہ بھارتی حکومت نے علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق مکمل طور پر سلب کر رکھا ہے اور جو کوئی علاقے کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے ”یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ“جیسے کالے قوانین کے تحت گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔۔








