مضامین

یومِ فتحِ معرکۂ حق: پاکستان کے ناقابلِ تسخیر عزم ، قومی وحدت اور کشمیر سے تجدیدِ وفا کا عظیم مظاہرہ

ارشد میر

پاکستان نے گزشتہ روز “یومِ جشنِ فتحِ معرکۂ حق” جس جوش، جذبے، قومی حمیت اور ولولے کے ساتھ منایا وہ محض ایک قومی دن کی تقریب نہ تھی بلکہ یہ پوری قوم کے اس عزمِ نو کا اظہار تھا کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری، نظریاتی سرحدوں اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کی اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے لیے ہر لمحہ تیار بھی ہے۔ یہ دن دراصل قومی تاریخ کے اُن درخشاں ابواب میں شامل ہوگیا ہے جو آنے والی نسلوں کو یاد دلاتے رہیں گے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایمان، اتحاد، قربانی اور اپنے مقصد سے غیر متزلزل وابستگی سے زندہ رہتی ہیں۔

پورے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں ریلیوں، سیمینارز، خصوصی تقاریب اور دعائیہ اجتماعات کا انعقاد اس امر کی گواہی دے رہا تھا کہ “معرکۂ حق” محض افواجِ پاکستان کی فتح نہیں بلکہ پوری قوم کی کامیابی ہے۔ شہروں، قصبوں اور دیہات میں عوام نے سبز ہلالی پرچم اٹھا کر جس جذبے کے ساتھ افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا وہ اس ناقابلِ شکست رشتے کا اظہار تھا جو پاکستانی عوام اور اپنی مسلح افواج کے درمیان قائم ہے۔ سڑکوں پر گونجتے ملی نغمے، نوجوانوں کے پُرجوش قافلے، شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کو دی جانے والی عزت اور قومی پرچموں سے سجی شاہراہیں اس حقیقت کا اعلان کررہی تھیں کہ پاکستانی قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

ریڈیو پاکستان، سرکاری و نجی ٹی وی چینلز اور قومی اخبارات نے اس موقع پر خصوصی نشریات، دستاویزی پروگرامز اور ایڈیشن شائع کرکے قومی جذبات کو نئی توانائی بخشی۔ شہداء کی قربانیوں، پاک فضائیہ کے شاہینوں کی جرات، پاک بحریہ کی تیاری اور بری افواج کی استقامت کو جس انداز میں اجاگر کیا گیا، اس نے قوم کو یہ احساس دلایا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط، محفوظ اور ناقابلِ تسخیر ہاتھوں میں ہے۔ میڈیا نے صرف تقریبات کی کوریج نہیں کی بلکہ اس نظریے کو بھی تقویت دی کہ پاکستان کا دفاع محض سرحدوں کا دفاع نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک تہذیب اور ایک قومی وقار کا دفاع ہے۔

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی مرکزی تقریب نے اس دن کی اہمیت کو مزید تاریخی بنا دیا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں شہباز شریف کے خطابات دراصل پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی تھے۔ صدرِ مملکت نے مسئلۂ کشمیر کو جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینا ناگزیر ہے۔ صدر آصف علی زرداری کا مسئلۂ کشمیر پر دوٹوک مؤقف اس امر کی یاد دہانی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ سری نگر سے ہوکر گزرتا ہے کہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں کشمیریوں کے مستقبل اور جنوبی ایشیا کے امن کا مسئلہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے “معرکۂ حق” کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا روشن باب قرار دیتے ہوئے جس اعتماد اور فخر کا اظہار کیا وہ قوم کے بلند حوصلوں کا آئینہ دار تھا۔ ان کے یہ الفاظ کہ “ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ” بہت مقبول ہوا۔ جو اہل پاکستان و کشمیر کی جذباتی تسکین ہی کا سامان نہیں بلکہ اس حقیقت کا برملا و برجستہ اظہار بھی ہے کہ پاکستان نے دشمن کی جارحیت کا جواب صرف قوت سے نہیں بلکہ حکمت، نظم اور جدید عسکری مہارت سے دیا۔ پاک فضائیہ کی برتری، بحریہ کی دفاعی تیاری اور بری افواج کے عزم نے دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہاتھوں میں ہے۔یہ پیغام واضح تھا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، مگر اگر اس پر جنگ مسلط کی جائے تو اس کا جواب تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہوجاتا ہے۔

دونوں قائدین کے بیانات اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے بلکہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بھارتی پنجہ استبداد میں گھرے مظلوم کشمیریوں کی پشتیبانی کرنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔اور یہ کہ بھارت اگر خطے میں استحکام چاہتا ہے تو اسے طاقت، دھونس اور آبی دہشت گردی کے بجائے انصاف، سفارت اور بین الاقوامی قوانین کی راہ اپنانا ہوگی۔

اس دن کی سب سے اہم اور تاریخی تقریب افواجِ پاکستان کی جانب سے منعقد کی گئی، جہاں فاتحِ ہند، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ایک ولولہ انگیز خطاب کیا۔ ان کا خطاب صرف ایک عسکری کمانڈر کی تقریر نہ تھا بلکہ پوری قوم کے لیے حوصلے، خوداعتمادی اور قومی غیرت کا پیغام تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے پاکستان مخالف عزائم اس کے قد اور صلاحیت سے کہیں زیادہ بڑے ہیں اور اگر مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔ ان کے الفاظ میں صرف انتباہ نہیں بلکہ ایک خودمختار اور طاقتور ریاست کا اعتماد جھلک رہا تھا۔فیلڈ مارشل کا یہ خطاب اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اس نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے نہ صرف مضبوط ہے بلکہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ ان کے خطاب میں شہداء کو خراجِ عقیدت، افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت پر اعتماد اور قوم کے اتحاد پر یقین نمایاں تھا۔ ان کا خطاب سوشل میڈیا، ٹی وی اسکرینوں اور عوامی اجتماعات میں غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

یومِ فتحِ معرکۂ حق کی سب سے متاثر کن جھلک مقبوضہ جموں و کشمیر میں دیکھنے کو ملی، جہاں بھارتی قابض فورسز کی سخت ترین پابندیوں، نگرانی اور خوف کے ماحول کے باوجود کشمیری عوام نے پاکستان کے سْاتھ اپنی نظریاتی ، جذباتی اور ایمانی وابستگی کا اظہار کیا۔ سری نگر، بارہمولہ، اسلام آباد، شوپیاں اور دیگر علاقوں میں چسپاں کیے جانے والے پوسٹرز اس بات کا ثبوت تھے کہ کشمیری عوام کے دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ان پوسٹرز پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصاویر کے ساتھ پاکستان اور افواجِ پاکستان کو اس تاریخی فتح پر مبارکباد دی گئی۔

یہ منظر دراصل بھارت کے اس جھوٹے بیانیے کے منہ پر طمانچہ تھا کہ کشمیری عوام پاکستان سے دور ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا بچہ بچہ آج بھی “پاکستان سے والہانہ محبت رکھتا ہے۔ کشمیری نوجوان جانتے ہیں کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ان کی امیدوں، جدوجہد اور آزادی کے خواب کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید پابندیوں اور ریاستی جبر کے باوجود انہوں نے “یومِ فتحِ معرکۂ حق” کو اپنے دل کی آواز بنایا۔

یہ دن اس اعتبار سے بھی تاریخی تھا کہ اس نے پوری قوم کو ایک بار پھر متحد کردیا۔ سیاسی اختلافات، جماعتی تقسیم اور دیگر داخلی مسائل کے باوجود پوری قوم ایک پرچم تلے کھڑی نظر آئی۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ دشمن ہمیشہ یہ خواب دیکھتا رہا کہ پاکستان اندرونی انتشار کا شکار ہوجائے گا مگر ہر قومی آزمائش میں پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ وہ متحد ہے اور اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

“یومِ معرکۂ حق” آنے والی نسلوں کے لئے پیغام ہے کہ قومی وقار کی حفاظت کے لیے قربانیاں دینا قوموں کی بقا کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جاتا، افواجِ پاکستان کی قربانیاں تاریخ کا سرمایہ ہیں اور کشمیری عوام کی جدوجہد پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے۔

آج جب دنیا طاقت کے نئے توازن، سفارتی کشیدگیوں اور جنگی خطرات کے دور سے گزر رہی ہے، پاکستان نے “معرکۂ حق” کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ امن چاہنے والی مگر اپنے دفاع پر مکمل یقین رکھنے والی ریاست ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری سمجھنے والے اب یہ جان چکے ہیں کہ یہ قوم نہ دباؤ قبول کرتی ہے، نہ دھمکیوں سے مرعوب ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے نظریاتی مؤقف سے پیچھے ہٹتی ہے۔
“یومِ جشنِ فتحِ معرکۂ حق” دراصل ایک نئی قومی روح، ایک نئے اعتماد اور ایک نئے عزم کی علامت بن چکا ہے۔ یہ دن پاکستانی قوم کو ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ جب قوم متحد ہو، افواج مضبوط ہوں اور قیادت پرعزم ہو تو کوئی دشمن اس سرزمین کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ پاکستان زندہ تھا، پاکستان زندہ ہے اور پاکستان ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button