بھارت

بھارت میں مسلمانوں کو بڑھتی ہوئی نفرت ، اسلام دشمنی کا سامنا ہے

لکھنو : مودی کے بھارت میں مسلمانوں کو مسلسل بڑھتی ہوئی نفرت اوراسلام دشمنی کا سامنا ہے جہاںبی جے پی کے زیر اقتدار ریاست اتر پردیش کے دار الحکومت لکھنو میں سفر کے دوران ایک برقعہ پوش مسلمان خاتون کو ہراساں کرنے کے لئے خفیہ طریقے سے اس کی ویڈیو بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ویڈیو کو ایک ہندو انتہاپسند نے فیس بک پر پوسٹ کیا ہے جس کی شناخت مسکان سنگھ کے نام سے کی گئیہے جو اپنے انتہا پسند خیالات اور اسلام دشمن بیان بازی کے لیے جانا جاتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ ایک اشتعال انگیز کیپشن لگایاگیاتھا”اڑادوں کیا؟“ اس کے ساتھ ہی ایک ہنسی اڑانے والا ایموجی اور ہندو توانعرہ ”جے شری رام“بھی لکھا ہوا تھا۔ فلم بندی کے دوران برقعہ پوش مسلمان خاتون مکمل طور پر لاعلم تھیجبکہ ویڈیو کے پس منظر میں ایک دھمکی آمیز گانا چلایا جا رہا ہے۔ ہندوتوا حلقوں میں مقبول گانے میں ”میں دنیا کا بادشاہ ہوں… میں تمہیں مار ڈالوں گا… میں تمہارے گھر میں موجود سب کو گولی مار دوں گا اور فساد ختم کردوں گا“ جیسے دھمکی آمیز بول موجود ہیں ۔ ویڈیو کے ایک اورحصے میں لکھا تھا”کیا آپ نے کچھ دیکھا ہے، جے بھوانی“۔ انتہاپسند مسکانسنگھ کے ذاتی اکاو¿نٹ پر شیئر کی گئی ویڈیو سے واضح طورپر فرقہپرستی کا اظہارہوتاہے جس سے اقلیتوں کو نشانہ بنانےکے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی ہوتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے جن میں عام مسلمان شہریوں کو ان کے لباس اور شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے،بھارت میں مسلمانوں کو آن لائن ہراساں کرنے کے پریشان کن رجحان کی عکاسی ہوتی ہے۔ بی جے پی کے دورحکومت میں بھارت میں اسلام مخالف بیان بازی کو ایک معمول بنایا گیا ہے تاکہ ایک ایسے ماحول کو فروغ دیاجائے جس میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ڈرانا دھمکانا،ان کو بے دخل کرنا اوران کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنا کوئی جرم نہ ہو۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button