مقبوضہ جموں و کشمیر

نیشنل کانفرنس کی حکومت تعلیم کو پروپیگنڈے کے لئے استعمال کر رہی ہے: پی ڈی پی

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے کہاہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت طلباء کو آر ایس ایس کی طلباء ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے پروگراموں میں شامل ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق23جنوری کومقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشدکی جانب سے منعقد ہ ترنگا ریلی میں کئی طالبعلموں اور اساتذہ کو شرکت پر مجبورکیاگیا۔ ریلی سے ایک دن قبل قابض انتظامیہ نے ضلع کے محکمہ تعلیم کو اس میں طلبا ء اور اساتذہ کی شرکت کو یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔اس معاملے نے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا ہے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے کہاہے کہ نیشنل کانفرنس حکومت طلباء کو اے بی وی پی کے نظریاتی پروگرام میں شامل ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔ پی ڈی پی نے این سی پر تعلیم کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ضلع پونچھ کے قبائلی طلباء کی ایک تنظیم نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ریلی سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں محکمہ تعلیم اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے کام کاج اور سرگرمیوں پر سنگین سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ این سی حکومت کو بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کی وجہ سے پہلے ہی تنقید کا سامنا ہے۔جمعہ کو اس تنازعے نے اس وقت زور پکڑا جب پونچھ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے پونچھ کے چیف ایجوکیشن آفیسر کو لکھا گیا ایک خط سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ خط میں محکمے کو اے بی وی پی کی طرف سے منعقدہ ترنگا ریلی میں دو اساتذہ کے ساتھ 40سے 50 طالبعلموں کو بھیجنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ گجر بکروال اسٹوڈنٹ الائنس نے ریلی کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پونچھ کے سی ای او اور ڈی ایم سرکاری اور نجی اسکولوں کو اے بی وی پی کی ریلی میں شرکت کا حکم کیسے دے سکتے ہیں؟ اے بی وی پی پروپیگنڈے اور سیاست کے لیے ایسے معصوم طلبا ء کا استعمال کر رہی ہے جو اس کے نظریے سے ناواقف ہیں۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ یہ اجازت کس کی ہدایت پر دی گئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button