کولگام : سیب کے 400 سے زائد درخت رات کے وقت پراسرار طور پر کاٹ دیے گئے، کاشت کار پریشان
بھارت کشمیریوں کو معاشی طورپرمفلوک الحال بنانے کیلئے ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع کولگام کے گائوں کہروات میں رات کے وقت سیب کے سینکڑوں درخت کاٹنے کا ایک پراسرار واقعہ پیش آیا ہے جس سے مقامی کاشتکار وں میںغم و غصے کی لہر ڈوڈ گئی ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق تقریبا 4سو سیب کے درخت کاٹ دیے گئے ہیں جو مقامی کاشت کاروں کی روزی روٹی کا واحد ذریعے تھے ۔ کاشتکاروں نے کہا کہ باغ میں 400 سے زائد درخت تباہ کیے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ آج صبح جب وہ باغ میں گئے تو انہوں نے سیب کے درختون کے تنوں کو کٹا ہوا اور شاخیں زمین پر بکھری ہوئی دیکھیں ۔ بڑے پیمانے پر تباہی نے علاقے کے باغبانوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جو اپنی روزی روٹی کے لیے سیب کی کاشت پر انحصار کرتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا، نامعلوم افراد نے باغ میں داخل ہو کر درختوں کی توڑ پھوڑ کی۔متاثرہ کاشتکاروں میں سے ایک نے تباہ شدہ درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس باغ نے پچھلے سال تقریبا 80 کریٹ سیب پیدا کیا تھا ، اب سب کچھ تباہ ہو چکا ہے ۔متاثرین نے کہا کہ نقصان کے طویل مدتی نتائج ہوں گے کیونکہ سیب کے درختوں کو بڑھنے اور پیداوار دینے میں برسوں لگتے ہیں۔ متاثرین نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے۔
یاد رہے کہ مقبوضہ علاقے میں سیب کی کاشت دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مقبوضہ علاقے میں سیب کے درختوںکی پراسرار کٹائی کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ آج تک اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ بھارت کشمیریوں کو معاشی طور طور پر مفلوک الحال بنانے کیلئے ایک منصوبہ بندسازش پر عمل پیرا ہے ، اس نے ریل اور دیگر نام نہاد منصوبوں کے علاوہ فوجی اور پنڈت کالونیوں کی آڑمیں کشمیریوں کی زمینوں پر قبضے کا ایک نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ سیب کے درختوں کی تباہی میں بھارتی فوجیوں کا ہاتھ ہونے کا امکان ہرگز ردنہیں کیا جاسکتا۔ اس ظالمانہ اقدام کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ کسی نام نہاد تعمیراتی منصوبے کیلئے راستہ ہموا رکرنا ہے۔




