بھارتی پولیس نے میں مزید سات کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر لیں

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے ضلع کٹھوعہ میں مزید سات کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرلیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر پولیس نے ضلع کٹھوعہ کے علاقے لوہائی ملہار میں 10کنال سے زیادہ اراضی ضبط کرلی جس کی قیمت کروڑوں روپے ہے۔جن افراد کی غیر منقولہ جائیداد ضبط کی گئی ان میں محمد ایاز، عبدالکریم، سرفراز نواز، محمد فاروق، محمد حفیظ، غلام محمد اور اختر علی شامل ہیں۔اگست 2019میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے بی جے پی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت نے کشمیریوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کو ہراساں کرنا اور انہیں معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔ بھارتی فورسز کے اہلکار جنہیں کالے قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل ہیں، کشمیریوں کی جائز سیاسی امنگوں اور حق خودارادیت کے مطالبے کو دبانے کے لئے منظم طریقے کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔






