مقبوضہ جموں وکشمیر میں ڈاکٹروں کو بھی نہیں بخشا جارہا، دو ڈاکٹر گرفتار

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پولیس نے خوف ودہشت کا ماحول پیداکرنے کے لئے دو ڈاکٹروں کو گرفتار کر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسلام آباد کے ایک سینئر ڈاکٹر کے لاکر سے ایک AK47رائفل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گرفتارکئے گئے دونوں ڈاکٹروں کا تعلق قاضی گنڈ اور پلوامہ سے ہے جن کوبھارتی پولیس نے میڈیکل کالج میں تلاشی کارروائی کے بعد حراست میں لیا۔ پولیس نے ڈاکٹروں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یواے پی اے”اور” آمز ایکٹ” کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ان گرفتاریوں سے طبی شعبے سے وابستہ افراد میں شدیدتشویش پیدا ہوئی جن کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیاجاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ علاقے میں ڈاکٹروں کو بھی جھوٹے الزامات پر من مانی گرفتاری سے نہیں بچایا جاسکتا۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے واضح ہوگیا کہ مقبوضہ علاقے میں قابض بھارتی حکام سیکیورٹی کی آڑ میں عام شہریوں، پیشہ ور افراد اور دانشوروں کو مجرم قراردینے کے لیے کس طرح کالے قوانین کا استعمال کر رہے ہیں۔







