APHC-AJK

اقوام متحدہ کے دہرے معیار کے باعث انسانی حقوق کا عالمی دن اپنی اہمیت کھو رہا ہے: فاروق رحمانی

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیرشاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی دن اپنی ساکھ کھو چکا ہے کیونکہ اقوام متحدہ اور بڑی عالمی طاقتیں دنیا بھر میں جابرحکومتوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو نظر انداز کر رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فاروق رحمانی نے انسانی حقوق کے عالمی دن سے چند روز قبل اسلام آباد میں ایک بیان میں کہا کہ احتساب کو برقرار رکھنے، بین الاقوامی انسانی قانون کے نفاذ اور کمزور آبادیوں کے تحفظ میں بار بار ناکامیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کی ادارہ جاتی حیثیت تیزی سے کمزورہورہی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر میں خطرناک حالات میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں ، نظربندسیاسی کارکنوں، صحافیوں، طلبائ،مصنفین اور ڈاکٹروںکو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔فاروق رحمانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تاریخ کشمیر، فلسطین، بھارت ،روہنگیا علاقوں اور سوڈان جیسے خطوں میں تنازعات کو روکنے اور انسانی حقوق کے تحفظ میں ناکامیوں سے بھری پڑی ہے جہاں لاکھوں لوگ سیاسی، معاشی اور نسلی جبر کا شکار ہیں۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے اس کی خصوصی حیثیت کو چھین لیا ہے اور کشمیریوں کو قانون سازی، اپنے عزیزوں سے روابط قائم کرنے یہاں تک کہ نوکریوں کے حق سے محروم کر دیا ہے کیونکہ غیر مقامی ملازمین کو زبردستی خطے میں دھکیلاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں کشمیری رہنما،صحافی اور کارکنان بھارت کی مختلف جیلوں میں صرف اس لیے بند ہیں کہ وہ کشمیری مسلمان ہیں جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے پرامن اور قانونی جدوجہد کر رہے ہیں۔فاروق رحمانی نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر آج دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جمائو والا علاقہ ہے جہاں تقریبا 10 لاکھ بھارتی فوجی اور پیرا ملٹری فورسزکے اہلکارموجود ہیں حالانکہ 1949کی جنگ بندی معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری میںسہولت کے لیے عارضی طور پر صرف چند ہزار فوجیوں کی ضرورت تھی۔اس کے علاوہ پانچ لاکھ پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں کی وجہ سے علاقہ گھٹن کا شکار ہے جو ہر عوامی سرگرمی اور فون پر گفتگو کی نگرانی کر رہے ہیں جس سے کشمیری معاشرے کو” روبوٹک سرویلنس زون” میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینئر سیاسی رہنمائوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین کے تحت دہائیوں سے جیلوں میں ڈالا گیا ہے،جن میں حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ ،شبیر احمد شاہ،محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہید نسرین، فہمیدہ صوفی، محمد قاسم فکتو،ڈاکٹر حمید فیاض، نعیم احمد خان،ایاز اکبر ، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز،سینئر وکیل میاں عبدالقیوم اوردیگر شامل ہیں جنہیں طبی اوردیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ صرف جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے 50سے زائد ارکان اور ہمدردوں کو گزشتہ دو دہائیوں سے یواے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت من گھڑت الزامات کا سامنا ہے۔فاروق رحمانی نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو کم کرنے کا واحد راستہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ ان کا حق خود ارادیت دلانا ہے۔انہوں نے بڑی طاقتوں اوراداروں سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرانے کے لیے موثرکردار ادا کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button