بھارتی حکام کا مقبوضہ جموں وکشمیر میں فرضی دفاعی مشقیں کرنے کا اعلان
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے کئی اضلاع میں شہری دفاع کے لئے فضائی حملوں اور بلیک آوٹ مشقوں کا حکم دیا ہے جس سے عوام میں خوف وہراس پھیل گیا ہے جو پہلے ہی بھاری تعداد میںبھارتی فوجیوں کی موجودگی سے تنگ ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع کپواڑہ میں 24 اپریل کو سہ پہر ساڑھے بجے ایک فرضی مشق کی جائے گی جس کے بعد رات آٹھ بجے سے دس منٹ کے لئے بلیک آو¿ٹ ہوگا۔ اسی طرح ضلع اسلام آباد میں بھی آج دن کے وقت اور شام کو مشق کی جائے گی۔گاندربل انتظامیہ آج فرضیفضائی حملے کی مشق کر رہی ہے جس کے بعد شام آٹھ بجے ضلع بھر میں بلیک آو¿ٹ ہو گا۔لوگوںکو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سائرن بجنے کے فوراً بعد انورٹرز، سولر لائٹس، موبائل فلیش لائٹس اور گاڑیوں کی لائٹس سمیت تمام روشنیاں بند کردیں۔حکام نے لوگوں سے کہا کہ وہ کھڑکیوں کو بندرکھیں یا روشنی کو روکنے کے لیے ان پر پردے ڈالیں۔ قابض حکام نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصدبحران کے دوران لوگوں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار سے واقف کرانا اور عوام اور انتظامیہ کی تیاری کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے ان مشقوں کوصرف ایک احتیاطی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران ضروری اور ہنگامی سروسز جاری رہیں گی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اچانک مشقوں سے علاقے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی پریشانی ظاہرہوتی ہے۔ شدید نفسیاتی دباو¿، بڑے پیمانے پر نگرانی، زمینوں پر قبضوں اور آبادیاتی تبدیلیوں سے ہندوتوا حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیرکو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جس سے کشمیریوں میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ یہ طرز عمل آپریشن سندور میں مودی حکومت کی ذلت آمیز سے پیدا ہونے والی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے جو اسے بار بار بلیک آو¿ٹ مشقوں کی طرف دھکیلتا ہے تاکہ خود کو ایک طاقت ور ملک کے طور پر پیش کر سکے۔






