لدھیانہ : سی ٹی یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کوامتیازی سلوک کا سامنا
طلبہ کو سحری اور افطاری کیلئے کھانے کی درخواست پربے دخلی کی دھمکیاں
سرینگر :
بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ کی سی ٹی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کو رمضان المبارک کے دوران سحری اور افطار کے لیے کھانے کی فراہمی کی درخواست پر مبینہ طور پر دھمکیوں اور بے دخلی کے خدشات کا سامنا ہے، جس سے بھارت میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ رواامتیازی سلوک کی عکاسی ہوتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری طلبہ کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران سحر اور افطار کیلئے کھانے کی فراہمی کی درخواست پر انتظامیہ نے سخت ردعمل کااظہار کیاہے ۔کشمیری طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میس انہیں سحر اور افطار کیلئے مقررہ اوقات میں کھانا فراہم نہیں کر رہاہے ، جس کے باعث وہ مقررہ اوقات کے مطابق سحری اور افطار کے مناسب طریقے سے نہیں کر پا رہے ہیں۔متاثرہ کشمیری طلبہ کے مطابق جب انہوں نے اس معاملے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے رابطہ کیا تو انہیں سخت اور دھمکی آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض طلبہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں داخلے منسوخ کرنے اور ہاسٹل خالی کرانے کی دھمکی بھی دی گئی۔کشمیری سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کشمیری طلبہ سے یونیورسٹی انتظامیہ کے امتیازی سلوک کی شدید مذمت کی اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ طلبہ کے تحفظ اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایسوسی ایشن کے کنوینر ناصر کھوہامی نے کہاکہ کشمیری طلبہ باقاعدگی سے فیس ادا کرتے ہیں اور صرف اپنے مذہبی فرائض کے مطابق مناسب وقت پر کھانے کی سہولت چاہتے ہیں۔ کسی بھی طالب علم کو اپنے عقیدے کی بنیاد پر دشمنی یا دبائو کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے بھارت کے تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلبہ، خصوصا جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مسلم طلبہ کو درپیش مشکلات اور ان سے روا امتیازی سلوک کی عکاسی ہوتی ہے۔ رمضان کے دوران بنیادی مذہبی سہولتوں سے محرومی کے الزامات نے اقلیتوں کے حقوق، رواداری اور بغیر خوف و ہراس کے تعلیم حاصل کرنے کے حق سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔








