بھارت میں عیسائیوں پر منظم مظالم کی مذمت ، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

نئی دہلی :بھارت میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے کرسمس کے موقع پرملک میں عیسائیوں کے خلاف منظم تشدد اور ظلم و ستم کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کمیونٹی کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک منظم کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تنظیم نے کرسمس کے دوران 60سے زائد واقعات کا حوالہ دیا جن میں ہجومی تشدد، توڑ پھوڑ اور ادارہ جاتی ملی بھگت شامل ہے۔ایک واقعے میں بی جے پی کی ضلعی نائب صدر انجو بھارگوا نے مدھیہ پردیش کے علاقے جبل پور میں کرسمس چیریٹی پروگرام میں بصارت سے محروم ایک خاتون سفالتا کارتک پر حملہ کیا۔ تنظیم نے ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات، پولیس کے احتساب اور عوامی شخصیات کی طرف سے نفرت انگیز تقاریر پر ان کے خلاف مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے فرقہ وارانہ تشدد پر نظر رکھنے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ایک آزاد قانونی ادارے کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے ان پولیس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا جو تشددکو روکنے میں ناکام رہے یا جنہوں نے مجرموں کے ساتھ ملی بھگت کی۔تنظیم نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے انسانی حقوق کے تحفظ کی تربیت کو لازمی قراردینے ،مذہبی ہم آہنگی اورتمام کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے قومی لائحہ عمل وضع کرنے کی بھی سفارش کی۔ ایسوسی ایشن نے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بھارتی حکومت اور ریاستی حکومتوں پر فوری کارروائی کی ضرورت پر زوردیا۔






