امریکہ :ہردیپ سنگھ نجر بھی ہمارا ہدف تھا: نکھل گپتا کا اعتراف

نئی دہلی :مودی حکومت کے حمایت یافتہ بھارتی شہری نکھل گپتانے جس نے امریکہ میں خالصتان نواز سکھ رہنما گروپتونت سنگھ پنون کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کاجرم قبول کیاہے، امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) کے ایک خفیہ ایجنٹ کو بتایا کہ ہردیپ سنگھ نجر بھی ان کا ہدف تھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطا بق کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون 2023 کو کینیڈا میںبرٹش کولمبیا کے علاقے سرے میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اسے قبل بھارتی حکومت نے انہیں خالصتان نواز سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر دہشت گرد نامزد کیا تھا۔ امریکہ محکمہ انصاف نے عدالتی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ نکھل گپتا نے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے ایک دن بعد19 جون 2023 کو یا اس کے آس پاس ڈی ای اے کے خفیہ افسر کو بتایا کہ نجربھی ان کا ایک ہدف تھا۔ اس نے کہاکہ ہمارے پاس بہت سے ا ہداف ہیں۔محکمہ انصاف نے کہا کہ نجر کالعدم تنظیم سکھ فار جسٹس (SFJ) کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنون کا ساتھی تھا۔امریکی استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا نے قبل ازیں خفیہ افسر کو ہدایت کی تھی کہ وہ جون 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے واشنگٹن کے سرکاری دورے کے وقت پنون کے قتل کو انجام دینے سے گریز کریں۔تاہم نجر کے قتل کے بعد جو کہ مودی کے دورے سے صرف دو دن پہلے ہوا، گپتا نے مبینہ طور پر اشارہ کیا کہ منصوبے پر عملدرآمد میں مزید تاخیر کی ضرورت نہیں ہے۔محکمہ انصاف نے کہا نکھل گپتا نے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کے افسر اورشریک ملزم وکاس یادو (جس سے بھارتی حکومت نے کابینہ سیکریٹریٹ کا ایک ملازم قراردیا ہے )کی ہدایت پر ایک ایسے فرد سے رابطہ کیا جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ وہ نیو یارک شہر میں کرائے کے قاتل کا بندوبست کرسکتا ہے ۔ یہ فرد درحقیقت محکمہ انصاف کے ساتھ کام کرنے والا ایک خفیہ ایجنٹ تھا جس نے گپتا کو ایک مبینہ قاتل سے ملوایاجو دراصل ڈی ای اے کا ایک خفیہ افسر تھا۔سرکاری حکام نے بتایاکہ یادو نے گپتا کے ذریعے قتل کے لیے 1,00,000 ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور جون 2023 میں ایڈوانس کے طور پر 15,000 ڈالر نقد ادا کئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نیٹ ورک براہ راست بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم کے دفتر کے تحت کام کر رہا تھا۔







