مقبوضہ کشمیر : جھوٹے الزامات کے تحت 2ڈاکٹروں سمیت 7کشمیری نوجوان گرفتار
مقبوضہ علاقے میں کشمیری ڈاکٹروں کی گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں ، سیاسی تجزیہ کار
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پولیس نے ڈاکٹروں سمیت بے گناہ کشمیری جوانوں کوجھوٹے الزامات میں گرفتار کر لیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے ان نوجوانوں کوسرینگر، شوپیاں، گاندربل، پلوامہ اور کولگام اضلاع میں بڑے پیمانے پر کریک ڈائون اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا۔گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں ڈاکٹر مزمل احمد گنائی اور ڈاکٹر عدیل احمد کے علاوہ عارف نثار ڈار، یاسر الاشرف، مقصود احمد ڈار، مولوی عرفان احمداور ضمیر احمد آہنگرشامل ہیں ۔
ادھر سیاسی مبصرین اورتجزیہ کاروں نے بھارتی پولیس کی طرف سے جھوٹے الزامات کے تحت ڈاکٹروں سمیت کشمیری نوجوانوںکی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ علاقے میں بے بنیاد الزامات کے تحت پیشہ ور ڈاکٹروں خصوصا نوجوانوں کی گرفتاریاں ایک معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عدیل کو ایک پوسٹر لگانے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیاگیاہے جس پر دکانداروں کو بھارتی ایجنسیوں سے تعاون نہ کرنے کا کہاگیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری نژاد ڈاکٹر عدیل جواتر پردیش کے علاقے سہارنپور میںمقیم ہیں کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ڈاکٹر مزمل شکیل سمیت دیگر ڈاکٹروں کو بھی اس جھوٹے مقدمے میں ملوث کردیاہے ۔ڈاکٹر عدیل 24 اکتوبر 2024تک گورنمنٹ میڈیکل کمپلیکس اسلام آباد میں بطور سینئر ریزیڈنٹ خدمات انجام دے چکے تھے۔سیاسی تجزیہ کاروںکے مطابق پولیس کا دعویٰ انتہائی کمزور اور غیر منطقی معلوم ہوتا ہے کیونکہ ڈاکٹروں کو ایک پوسٹر کی بنیاد پر گرفتار کر کے ا نکا تعلق کسی عسکریت پسند تنظیم سے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی شخص کیلئے صرف پوسٹر لگانے کیلئے اتنی دورسرینگر آنا انتہائی مشکل ہے،جہاں پہلے ہی ہر طرف نگرانی کیلئے کیمرے نصب ہیں۔ پولیس کا یہ دعویٰ بھی قابل قبول نہیں کہ ڈاکٹر عدیل نے رائفل ایک سال تک ہسپتال میں رکھی جبکہ وہ ادارہ گزشتہ سال ہی چھوڑ چکے ہیں۔سہارن پور میں ڈاکٹر عدیل کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ان پر دبائو ڈال کر دیگر کشمیری ڈاکٹروں کو بھی اس کیس میں ملوث کیا، جن میں ڈاکٹر مزمل شکیل بھی شامل ہیں جن کی دلی کے قریبی علاقے فریدآبادمیں واقع کلینک سے پولیس نے مبینہ طورپر دو AK-47رائفلیں اوردھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعوی کیاہے۔پولیس کمشنر فرید آباد کمار گپتا کے مطابق ضبط شدہ رائفلیں AK-47نہیں تھیں، جس سے بھارتی پولیس کا دعوے مزیدمشکوک ہو گیا ہے۔ اس بارے میں بھارتی میڈیا کے بیانات میں بھی واضح تضاد پایا جاتاہے ۔ NDTVکی رپورٹ کے مطابق اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ڈاکٹرمزمل شکیل سے برآمد کیا گیا، جبکہ دیگر بھارتی ذرائع نے ان کا نام مفازل شکیل ظاہر کیاہے ۔ٹائمز نائو کے مطابق ڈاکٹر کے پاس سے 2900کلو دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، جو تقریبا ایک ٹرک کے وزن کے برابر ہے جسے اپنے پاس خفیہ رکھنا کسی طورپر ممکن نہیں ۔یہ تضادات بھارتی فورسز کی ناقص کارکردگی اور غلط بیانی کو ظاہر کرتے ہیں۔ان مضحکہ خیز تفصیلات سے صاف ظاہر ہے کہ بھارتی فورسز کے بے بنیاد دعوئوں میں کوئی صداقت نہیں ۔ یہ واقعہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ نااہلی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارتی حکام نے کشمیریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے2022سے مقبوضہ کشمیر میں دکانداروں پرسی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دے رکھی ہے اس کے علاوہ سرینگر اور دیگر شہروں میں بھی تقریبا ہر گلی میں سکیورٹی کیمرے نصب ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی قابض انتظامیہ کشمیری مسلمانوں کو مجرم بنا کر ان سے اعلیٰ عہدے چھینے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے ۔کشمیری ڈاکٹروں کوبھی بھارتی فورسز کی جانب سے بڑھتی ہوئی تذلیل اور جبر کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں نئے انٹرن ڈاکٹروں کو تنخواہیں ادا نہیں کی جاتی جبکہ تجربہ کار ڈاکٹروں کودہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں ملوث کیاجارہاہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اپنے اندرونی سکیورٹی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی ناکام کوشش کر رہاہے ۔







