مقبوضہ جموں و کشمیر

بی جے پی کے دور حکومت میں بھارت میں عدم برداشت بڑھ گیا ہے:رپورٹ

اسلام آباد:انسانی حقوق کی مختلف بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس میں 2014میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور نفرت انگیز تقاریر میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 2019میں خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ جموں وکشمیر براہ راست نئی دہلی کی حکمرانی میں ہے۔کے ایم ایس کی طرف سے 16نومبر کو دنیا بھر میں منائے جانے والے رواداری کے عالمی دن کے موقع پرجاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ہندوانتہا پسند گروپ حکمرانوں کی سرپرستی میں بھارت میں روزانہ کی بنیاد پر اقلیتوں کوظلم و تشددکا نشانہ بناتے ہیں اورانہیں ہراساں کرتے ہیں۔ بھارتی فورسز اور ایجنسیوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری آبادی کے خلاف ظلم و جبر کی مہم تیزکر رکھی ہے۔اگرچہ بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بڑھتی ہوئی عدم برداشت زیر بحث ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا کے کچھ ادارے اس تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں، تاہم بی جے پی اور اس کے زیر کنٹرول میڈیا مسلسل اس کی تردید کرتاہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر بار بار تشویش کا اظہارکر رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ہندوتوا نظریے( سب سے پہلے ہندو)اور متنازعہ اقدامات نے جن میں2024میں شہریت ترمیمی قانون کا نفاذ (جس میں مسلم مہاجرین کوحق شہریت سے باہر رکھا گیا ہے)، امتیازی ماحول کو فروغ دیا ہے۔مختلف رپورٹس میں اقلیت مخالف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے ۔اگست 2019 میں دفعہ370اور 35Aکی منسوخی کے بعد سے جس کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیااور اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کیاگیا،مبصرین اور مقامی باشندوں نے کہاکہ علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول قائم کیاگیااور اختلاف رائے کو بزورطاقت دبایا گیا۔بی جے پی حکومت کے تحت مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دلتوں پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیاگیا اور بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وی ایچ پی جیسے ہندوتوا گروپوںنے اقلیتوں کے گھروں، مذہبی مقامات اور تجارتی اثاثوں کو مسمار کردیا جس سے بھارت بھر میں کشیدگی اوربے چینی بڑھ گئی اوراقلیتی برادریوں میں احساس عدم تحفظ پیدا ہوگیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارتی فورسز کے خلاف قانونی کارروائی نہ کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی ایک ایسا اقدام ہے جس نے علاقے کی شناخت اور قبضے کے حوالے سے مقامی مسلم آبادی میں بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔ مبصرین نے کہاکہ سنسر شپ اور کتابوں پر پابندی کے علاوہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاکہ بی جے پی کے دور میں بھارت میںمذہبی اقلیتوں کے خلاف کھلے عام تشدد اور عدم برداشت کا مظاہرہ کیاجا رہا ہے۔ کشمیری عوام کو خاص طور پر اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے پر ریاستی جبر کاسامنا ہے۔رواداری کے عالمی دن کا مقصد شمولیت، پرامن بقائے باہمی اور مختلف عقائد، اقدار اور ثقافتوں کے احترام کو فروغ دینا ہے لیکن مودی حکومت کی سرپرستی میں ہندوانتہا پسند اقلیتوں کو کھلے عام قتل کررہے ہیں، ان پر حملے کررہے ہیں،ن کی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑکررہے ہیں اور انہیں جسمانی، ذہنی، معاشی اور نفسیاتی طور پر ظلم و ستم کا نشانہ بنارہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں پر ظلم و ستم کے بعدانتہا پسند ہندوئوں کے حوصلے حکومتی حمایت سے بلند ہورہے ہیںجو زیادہ تر آر ایس ایس، بی جے پی، وی ایچ پی اور بجرنگ دل سے وابستہ ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کہلانے والے ملک میں مسلمانوں، عیسائیوں اور نچلی ذات کے ہندئووں کو دوسرے درجے کے شہری سمجھا جاتا ہے۔مسلمان اور دیگر اقلیتیں مسلسل خوف ودہشت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں گائے کے گوشت کے استعمال پر قتل، نقاب پہننے پر مسلمان خواتین کو ہراساں کرنا، حلال گوشت پر پابندی، قصبوں اور گلیوں کے اسلامی ناموں کو تبدیل کرکے ہندو نام رکھنا شامل ہیں۔رپورٹ میں عیسائی مخالف اور دلت مخالف تشدد کو بھی اجاگر کیا گیا جس میں گرجا گھروں پر حملے، مذہبی لٹریچر کو جلانا، عبادت گزاروں اور اسکولوں پر حملے شامل ہیں۔ یہ خلاف ورزیاں مذہبی آزادی کے حوالے سے آئینی ضمانتوں کے باوجود ہوتی ہیں۔پاکستان نے بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر مسلسل اٹھایا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو جوابدہی بنائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button