بی جے پی پاکستان اور مسلمان مخالف جذبات بھڑکا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے

اسلام آباد: بھارت بین الاقوامی سطح پرپاکستان کو بدنام کرنے کی ہرممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اوروہ داخلی بحرانوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی میڈیا نے حال ہی میں یہ بے بنیاد دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ طورپر پاکستان سے تعلق رکھنے والے جیش محمد کے تین کارکن حسنین علی ، عادل حسین اور محمد عثمان نیپال کے راستے ریاست بہار میں داخل ہو ئے ہیں ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دعوی دراصل ایک وسیع ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد بھارت کی داخلی سکیورٹی کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت ایک بار پھر پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑکاکر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے جبکہ بھارت کے متعدد حصے بشمول اڑیسہ، اروناچل پردیش، ہماچل پردیش کاعلاقہ منالی اور مقبوضہ جموں و کشمیر شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام امداد کے شدت سے منتظر ہیں تاہم سرکاری مشینری بھارت کو دہشت گردی سے متاثر ملک کے طورپرپیش کرنے کیلئے محض جھوٹے بیانیے گھڑنے میں مصروف ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان سے "دہشت گردوں” کی مبینہ دراندازی کی خبریں عام انتخابات یا حساس واقعات سے قبل معمول بن چکی ہیں اور بہار کے عوام نے بھی ان خبروں پر حیرانگی کا اظہار کیاہے۔امدادی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی بنائے بھارتی میڈیا نام نہاد پاکستانی دراندازوں کے بارے میں جھوٹی خبریں جاری کررہاہے ۔ بھارت خصوصا بہار کے عوام نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیاہے کہ خاص مواقع خصوصا الیکشن سے قبل ہی کیوں اس طرح کے دعوے سامنے آتے ہیں؟بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بی جے پی کے اس پراپیگنڈے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کا ایک اوچھا ہتھکنڈہ قراردیا ہے جسے ہمیشہ انتخابات میں کامیابی کیلئے استعمال کیاجاتا ہے ۔ماہرین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے 2022سے لشکرِ طیبہ جیسی تنظیموں پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اس لیے پاکستان کو مسلسل دہشت گردی سے جوڑنا محض ایک گمراہ کن سفارتی چال ہے۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارتی ایجنسیاں بشمول رااور این آئی اے کی پے در پے ناکامیوں نے نہ صرف ان کی نااہلی کا پول کھول دیاہے بلکہ بھارت کی سکیورٹی کے داخلی نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں ۔ بھارتی ایجنسیوں کی نااہلی اور ان کے درمیان اختلافات سے عالمی سطح پر بھارت کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔




