بھارتی سفارتکاری ،بازاری وزیر خارجہ کے حوالے
جے شنکر کا سفارتی ناکامی چھپانے کیلئے پاکستان مخالف متنازعہ اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال
اسلام آباد:
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے حالیہ پاکستان مخالف متنازع اور غیر پارلیمانی بیان پر سیاسی و سفارتی حلقوں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اس بیان کو سفارتی آداب کے منافی ،بھارت کی گرتی ہوئی عالمی ساکھ اور بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا مظہر قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جے شنکر نے ایک آل پارٹیز اجلاس کے دوران پاکستان کے حوالے سے نازیبا زبان استعمال کی، جس پر مبصرین نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات دراصل بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہیں خاص طور پر جب اہم علاقائی و عالمی معاملات میں بھارت کو یکسرنظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اہم سفارتی پیش رفت خاص طورپر امریکہ، اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کے عمل میں بھارت کو نظر انداز کیا گیا جبکہ پاکستان، ترکیہ اور مصر ایک قابلِ اعتماد سفارتی پل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔مبصرین کے مطابق امریکہ، ایران اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت میں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد سفارتی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بھارت اس عمل سے مکمل طورپر باہر دکھائی دیتا ہے۔ اس تناظر میں جے شنکر کے بیان سے سفارتی مایوسی اور دبائوظاہر ہوتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے مختلف علاقائی و بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی اور سہولت کاری کے ذریعے ایک مثبت کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس بھارت کو اپنی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر تنقید اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ماہرین کے مطابق جے شنکر کے حالیہ ریمارکس بھارت کی سفارتی کمزوری اور عدم تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ اس طرح کے بیانات عالمی برادری میں بھارت کے امیج کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔مبصرین کے مطابق جے شنکر کے پاکستان مخالف توہین آمیز بیان سے انکی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے، ایسے ملک کے وزیر خارجہ کی جس کا شمار جسم فروشی، ریپ اور سماجی برائیوں میں سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی عوام کو گمراہ کرنا انتہائی آسان ہے، یہ کام بھارتی سیاستدان، فوجی جرنیل اور بالی وڈ انڈسٹری مسلسل کررہی ہے ۔مبصرین کے مطابق عالمی اثر و رسوخ طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے بنتا ہے۔ عالمی بحران کے حل میں پاکستان کا کردار ایک حقیقت ہے جسے بھارتی بیانات یا الزام تراشی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔صہیونی ریاست اسرائیل کی مسلسل حمایت، ایران کے ساتھ عدم تسلسل اور امریکہ کے سامنے سرجھکا نے کی وجہ سے بھارت کو ملک اور بیرون ملک سخت تنقید کا سامنا ہے ۔ سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد امن ثالث کے طور پر ابھرکرسامنے آیا ہے، جسے دونوں فریق اعتماد کے ساتھ بحران کے حل کیلئے مدعو کرتے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ چین تعلقات میں سہولت کاری، اردن کی مدد، خلیجی جنگ میں کردار، سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن، عراق میں تعاون سمیت مختلف علاقائی و عالمی تنازعات میں ثالثی اور سہولت کاری کے ذریعے ایک مثبت اور فعال کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔اس کے برعکس،بھارت نے کبھی کسی عالمی تنازعے میں موثر ثالثی نہیں کی، مودی حکومت کا روس یوکرین جنگ روکنے کا دعویٰ عالمی سطح پر مذاق بن گیاہے۔ پاکستان کی سفارت کاری نمایاں ہے جبکہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارت کی اربوں ڈالر کی مہم مکمل طورپر ناکام ہو گئی ہے ۔







