بھارت کا سنیما زدہ جنگی جنون، پاکستان کی سنجیدہ اور ذمہ دار حکمت عملی کے سامنے مکمل طورپر ناکام
سندور 1.0 جیسے کسی اور بالی ووڈ زدہ آپریشن کے نام پر مہم جوئی کی گئی تو پاکستان کاجواب بھرپور اور منہ توڑ ہوگا
اسلام آباد:
بھارتی آرمی چیف کے حالیہ اشتعال انگیز بیان کہ آپریشن سندور 1.0 تو محض ٹریلر تھا، اصل فلم ابھی باقی ہے نے ایک بار پھر بھارتی قیادت کے ہم جو مزاج ،سینمازدہ جنگی جنون اورخطرناک اسٹریٹجک کم فہمی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پاکستان نے اس مذموم بیانیے کو نہایت بردباری، ضبط و تحمل اور مکمل اسٹریٹجک تیاری کے ساتھ جواب دے کر دنیا پر واضح کیا ہے کہ امن او رجنگ دونوں میدانوں میں ذمہ داری کس کا طرہ امتیاز ہے۔بھارت کا فلمی ٹریلروں پر مبنی بیانیہ، جنگ سئے متعلق سنجیدگی کا بھونڈا مذاق ہے۔گزشتہ دہائی میں بھارتی عسکری و سیاسی قیادت اور اس کی قوم پرست میڈیا نے قومی سلامتی جیسے نازک اور سنجیدہ معاملات کو بالی ووڈ کے فلمی اسکرپٹ اور سینما زدہ ماحول میں ڈھال دیاہے جہاں ہر بحران کو فلمی ٹریلر، ہیرو اور ایکشن سین کے استعاروں میں پیش کیا جاتا ہے۔ مگر ایٹمی ڈیٹرنس سینما کے اصولوں پر نہیں چلتااور نہ ہی مزاحیہ مکالموں کی حقیقی جنگی میدان کوئی اہمیت ہے۔ پاکستان جیسے ذمہ دار، منظم اور مکمل اسپیکٹرم ڈیٹرنس رکھنے والا ہم پلہ ملک کے مقابلے میں بھارتی فلمی جارحیت کوہر بارشرمناک شکست کاسامنا کرنا پڑتاہے ۔2025میں بھارت نے ایک اور سرجیکل اسٹرائیک جیسے ڈرامے کی کوشش کی، مگر پاکستان نے منظم،پر اعتماد اورپیشہ ورانہ انداز میں موثر جواب دے کر بھارتی عزائم خاک میں ملا دیے۔پاکستان نے اپنی مکمل اسپیکٹرم ڈیٹرنس صلاحیت فعال کی اور بھارت کے جدید ترین رافیل طیاروں سمیت 7جنگی جہاز مار گرائے۔فضائی، زمینی اور اسٹریٹجک فورسز کو مربوط کر کے بھارتی ایڈوانس موومنٹس کا بروقت، حقیقی اورموثر جواب دیا اور دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان ڈرامہ نہیں پوری صلاحیت اور نظم و ضبط کے ساتھ جواب دیتا ہے۔پاکستان نے میدان جنگ کے ساتھ ساتھ سفارت کاری اوربیانیے کے شعبوں میں بھی بھارت کو واضح طورپر شکست دی ۔ بھارت نے میدان جنگ سے خاموشی سے اپنے دستے واپس بلانے پر مجبور ہوا،پاکستان کے ہاتھوں لڑاکاطیارے اورفوجی چوکیاں تباہ کروائیں۔اپنی میڈیا داستانوں کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہ کر سکا۔2025کا پاک بھارت تنازعہ وہ آئینہ ہے جس میں جھانکنے سے بھارت ڈرتا ہے۔ بھارت کی نئی دھمکیوںسے 2025کی تلخ حقیقت کوتبدیل نہیںکیا جاسکتا ۔بحرانی صورتحال کے دوران بھارت نے اندرونی سیاسی مفادات کے لیے اشتعال انگیزی کو ہتھیار بنایا، مگر جب پاکستان نے اس پر حقیقت منکشف کی تو نئی دلی کو واشنگٹن، ریاض اور یورپ سے ثالثی کی درخواست کرنی پڑی۔ امریکی اور یورپی تھینک ٹینکس نے اپنی رپورٹوں میں تسلیم کیاکہ پاکستان کی ڈیٹرنس بھارت کی توقع سے کہیں زیادہ موثر، مربوط اور بھرپور تھی۔اسی لیے بھارتی آرمی چیف کے فلمی ڈائیلاگ کا کوئی اسٹریٹجک وزن برقرارنہیں رہا۔بھارت کا ذمہ دار پڑوسی ہونے کا دعویٰ 2025کے پاک بھارت جنگ کے دوران مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا۔پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں مکمل ذمہ اری ، ضبط وتحمل اور حکمت سے کام لیا۔ شہری آبادیوں کا تحفظ یقینی بنایا اور عالمی براری سے رابطے برقرار رکھے۔بھارت کی درخواست پر جنگ ختم کروانے کیلئے ثالثی پرامریکہ سمیت دیگر برادر ممالک کا شکریہ ادا کیااس کے برعکس بھارت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیا کو پروپیگنڈا مشین میں بدل دیا اور کسی قسم کی ثالثی کوتسلیم نہیں کیا۔بلکہ امریکی صدرٹرمپ جنھوں درجنوں بار امریکہ کی ثالثی کے کردار کی تصدیق کی انھیں تضحیک کا نشانہ بنایا اورصدر ٹرمپ کا شکریہ تک ادا نہیں کیا۔ ذمہ داری صرف نعرے نہیںبلکہ عمل ہوتا ہے اور 2025میں پاکستان نے اپنے عمل اورکردارسے ایک نہایت ذمہ دار ملک ہونے کا مظاہرہ کیا۔بھارت ہر بار پاکستان کے وقار اور ضبط کو کمزوری سمجھتا ہے اور ہر بار غلط ثابت ہوتا ہے۔27 فروری 2019کوپاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دیا اور دو طیارے مار گرائے اور پائلٹ کو پکڑ کر باوقار انداز میں واپس کیا۔رواں سال مئی میں پاکستان نے بلااشتعال بھارتی جارحیت کا موثر، درست اور اسٹریٹجک جواب دیا جس نے بھارت کو پسپائی پر مجبور کیا۔پاکستان خاموش طاقت کاحامل ملک ہے ۔بھارت اگر پاکستان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کاموقع تلاش کرنا چاہتا ہے، تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اپنی شرائط پرفوری طورپر جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے ۔عالمی برادری پر واضح ہو گیاہے کہ بھارت کی خطے میں حیثیت صرف ایک اشتعال دلانے والے فلمی اداکار سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔2025کی جنگ کے دوران طاقتور عالمی دارالحکومتوں نے نجی سطح پر بھارت کے رویے پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا۔عالمی ممالک نے بھارت کے بڑھتے ہوئے عسکری بیانیہ پرتشویش کا اظہار کیا اور پاکستان کے موقف کوذمہ دارانہ اورجارحیت سے پاک قراردیا۔ بھارتی سیاست نے سکیورٹی پالیسی کو یرغمال بنارکھا ہے اور اسی وجہ سے بھارت کی طرف سے غلطی اور خطا کے امکانات زیادہ تھے۔ کینیڈا، امریکا، خلیج، نیپال، بنگلادیش اور مالدیپ میں بھارتی مداخلت کے بعد بھارت کے ذمہ دار ریاست ہونے کے دعوے کو دنیا میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔پاکستان تصادم کا خواہش مند نہیں۔تاہم کوئی فلمی دھمکی، کوئی سیاسی اسٹیج یا کوئی اشتعال مکالمہ ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ اگربھارت نے ایک با رپھرسندور 1.0 جیسے کسی اور بالی ووڈ زدہ آپریشن کے نام پر مہم جوئی کی تو پاکستان کاجواب وہی ہو گا جو 2019اور 2025میں وہ دکھا چکا ہے۔پاکستان ٹریلر نہیں بناتاتاریخ میں حقیقت درج کرتاہے۔پاکستان فلم نہیں چلاتاحدود مقرر کرتا ہے اور جب کوئی ان حدود کو پار کرتا ہے،تو پاکستان مکمل طورپرپیشہ ورانہ انداز میں متناسب قوت کے ساتھ اور بغیر کسی ابہام کے بھرپورجواب دیتا ہے۔





