مسعود خان کا جنگ بندی میں توسیع کا خیرمقدم ، پاکستان کی عالمی امن کوششوں کی تعریف

اسلام آباد : امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کا ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسعود خان نے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے، کشیدگی کو کم کرنے اور پیچیدہ مذاکرات کو نازک موڑ پر آگے بڑھانے کے لئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی نے دونوں فریقوں کے درمیان روابط کو برقرار رکھنے اورکشیدگی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ ثالث کے طور پر پاکستان کا کردار عالمی امن کے قیام میں ایک ذمہ دار اورفعال رکن کے طور پر اس کے بڑھتے ہوئے قد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اعتمادسازی اور اختلافات کو دور کرنے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ مسلسل روابط برقرار رکھتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی حمایت کو کامیابی کے ساتھ متحرک کیا ہے۔ ا نہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز ایک مرکزی فلیش پوائنٹ بنی ہوئی ہے جس کے کھلنے اور بند ہونے سے عالمی توانائی کی منڈیوں اور سمندری سیکیورٹی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی میں نرمی اورآزادانہ جہازرانی کو یقینی بنانے سمیت اعتماد سازی کے اقدامات بامعنی بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔سردار مسعود خان نے کہا کہ متضاد بیانیوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود آگے بڑھنے کا قابل عمل راستہ مذاکرات ہی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ سفارتی کوششوں کے خاتمے سے نہ صرف جنگ دوبارہ شروع ہوگی بلکہ پوری دنیا کو شدید اقتصادی اور سیاسی نتائج بھگتنے پڑیںگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی ثالثی ناکام ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی ناکامی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی ناکامی ہوگی۔







