مقبوضہ جموں وکشمیرمیں تاجر رہنمائوں کی بجٹ میں کٹوتی کی مذمت

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں تاجر رہنمائوں اور تنظیموں نے 2025-26کے بجٹ میں کٹوتی پر شدید تنقید کرتے ہوئے زوال پذیرصنعتی شعبے کی بحالی کے لئے خصوصی اقتصادی پیکج نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیر ایوان صنعت وتجارت کے صدر جاوید ٹینگا نے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1,200کروڑ روپے کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم علاقے میں ترقی کے لیے بجٹ میںکم از کم 20سے 25فیصداضافے کی توقع کر رہے تھے اوراس کمی سے سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیںکہ ترقی کیسے ہوگی اور مختلف شعبوں کے لیے فنڈز کیسے فراہم ہونگے۔جاوید ٹینگا نے افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صنعتی شعبے کے لیے کوئی خصوصی پیکج نہیں ہے جو ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے۔کے سی سی آئی کے ترجمان نے کہاکہ جموں و کشمیر کو درپیش منفرد چیلنجوںخاص طور پر بے روزگاری کے بڑے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے ایک خصوصی پیکیج کی اشد ضرورت ہے۔ایک اور ممتازتاجر رہنما محمد یاسین خان نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ علاقے میں کاروباری اداروں کو درپیش مخصوص معاشی مشکلات کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بجٹ میں مقبوضہ جموں وکشمیرکے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقدمات کا فقدان ہے اور متوسط طبقے کے تاجروں کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔ کاروباری رہنمائوں نے مالی امداد میں اضافے، 1,200کروڑ روپے کٹوتی کی بحالی اور علاقے میں صنعتی ترقی اور روزگار کو فروغ دینے کے لیے اقتصادی بحالی پیکج کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔







