آغا روح اللہ مہدی کی مجوزہ حلقہ بندی پر مودی حکومت پر کڑی تنقید
نئی دلی:
غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے مجوزہ حلقہ بندی پرمودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے اس طرح کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے لوک سبھا میں کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس عمل سے وفاقی ڈھانچے اور ریاستوں کے درمیان توازن بری طرح متاثر ہو گا۔ان کی جماعت ان بلوں کی مخالفت کرتی ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نئی حلقہ بندیاں نافذ کی گئی تو جنوبی ریاستوں کو نقصان ہوگا اور طاقت کا توازن شمالی ریاستوں کی طرف جھک جائے گا اور صرف چار یا پانچ بڑی ریاستوں کو ملک کے فیصلوں کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ حتی کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے معاملات بھی یہی ریاستیں طے کریں گی۔ روح اللہ مہدی نے کہا کہ مودی حکومت بنگال کومقبوضہ جموں وکشمیر جیسی سنگین صورتحال کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے ۔حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کیاہواہے۔ جموں و کشمیر میں نام نہاد حلقہ بندی کے دوران آبادی کے تناسب کو اس انداز میں تبدیل کیا گیا جس سے مخصوص سیاسی جماعت (بی جے پی ) کو فائدہ پہنچے۔ اب پورے بھارت کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ مذہبی بنیادوں پر آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں خواتین ریزرویشن کی حمایت کرتی ہیں، لیکن وہ اس بل کی آڑ میں حلقہ بندی کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کی مودی حکومت کی کوششوں کوکامیاب نہیں ہونے دیں گی ۔







